ماسکو:

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے اپنے اعلیٰ حکام کو یہ حکم دیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ تجربات کے حوالے سے تجاویز تیار کریں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق  یہ حکم سرد جنگ کے بعد پہلی بار جوہری تجربات کے لیے کسی پیش رفت کا اشارہ ہے۔ 1991 کے بعد روس نے جوہری تجربات نہیں کیے ہیں۔

یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ ہفتے کے اعلان کے ردعمل میں آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ جوہری تجربات دوبارہ شروع کرے گا۔

دونوں ممالک کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی سب سے بڑی تعداد ہونے کی وجہ سے اس اقدام کو عالمی سطح پر ایک سنگین صورت حال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو عالمی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

پوتن نے اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ میں وزارتِ خارجہ، وزارتِ دفاع، خصوصی خدمات اور متعلقہ سول اداروں کو ہدایت دیتا ہوں کہ وہ اس مسئلے پر اضافی معلومات جمع کریں،

 اسے سکیورٹی کونسل میں تجزیہ کریں اور جوہری تجربات کے آغاز کے لیے ممکنہ تجاویز تیار کریں۔

روس اور امریکہ کے تعلقات حالیہ ہفتوں میں کشیدہ ہو چکے ہیں، جب ٹرمپ نے یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے پیش رفت نہ ہونے پر پوتن کے ساتھ ایک مجوزہ سمٹ منسوخ کر دی تھی اور روس پر پہلی بار اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جوہری تجربات تجربات کے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل