ای کورٹس نظام کیلئے لائحہ عمل تشکیل، مقصد کارکردگی بہتر بنانا ہے: چیف جسٹس
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں ملک بھر میں ای کورٹس نظام کے لیے لائحہ عمل تشکیل دیا گیا۔ اجلاس میں عدالتی نظام کو زیادہ شفاف اور عوام دوست بنانے کیلئے مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں جسٹس محمد علی مظہر، ہارون رشید، بیرسٹر علی ظفر سمیت مختلف اداروں کے حکام نے شرکت کی۔ چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کا ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن عوامی مفاد پر مبنی اصلاحی عمل ہے۔ انہوں نے کہا مقصد شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو اس عمل میں شامل کیا جائے گا۔ اگست 2026ء تک پاکستان کی تمام عدالتیں سولر انرجی پر منتقل کی جائیں گی۔اس حوالے سے چیف جسٹس نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کو سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی ہدایت دی۔ علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ ای لائبریریز، خواتین سہولت مراکز، صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے بھی مکمل ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: چیف جسٹس
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔