پاکستان کا دفاع ناقابل تسنحیر‘ فوج کی قربانیاں لائق تحسین جنرل ساحر : الوداعی تقریب سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) جنرل ساحر شمشاد مرزا کے اعزاز میں الوداعی تقریب ہوئی جس میں ان کی 40 سالہ عسکری خدمات کو شاندار خراج تحسین کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جوائنٹ سٹاف ہیڈکوارٹرز میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کے اعزاز میں خصوصی الوداعی تقریب منعقد کی گئی۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا چار دہائیوں پر مشتمل اپنی شاندار عسکری خدمات مکمل کرنے کے بعد عہدے سے رخصت ہو گئے۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ ملک و قوم کی خدمت کے فرائض اخلاص، پیشہ ورانہ مہارت اور بھرپور لگن کے ساتھ سرانجام دینے کی توفیق عطا ہوئی۔ انہوں نے مادر وطن کے دفاع میں پاک افواج کی لازوال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور شہداء اور ان کے اہل خانہ کو زبردست سلام عقیدت پیش کیا۔ ساحر شمشاد نے کہا کہ موجودہ جیوسٹرٹیجک ماحول میں مضبوط قومی دفاع قومی سلامتی کا بنیادی ستون ہے۔ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے اور ملک کے جانباز افسر اور جوان اس دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر لمحہ تیار ہیں۔ تینوں سروسز کے چاق و چوبند دستے نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔