اسلام آباد (این این آئی+اپنے سٹاف رپورٹر سے)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء  اللہ تارڑ نے آبادی میں تیزی سے اضافے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی آبادی میں ہر سال نیوزی لینڈ کی آبادی کے برابر اضافہ ہو رہا ہے، بڑھتی آبادی کی وجہ سے صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں چیلنجز سامنے آ رہے ہیں جبکہ معیشت اور بنیادی سہولیات پر بھی اس کا بوجھ بڑھ رہا ہے، آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مقامی ہوٹل میں ’’دی پاکستان پاپولیشن سمٹ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمیں یہ احساس کرنا ہوگا کہ آبادی میں اضافہ ایک بڑا سنگین مسئلہ ہے، پاکستان کی آبادی میں ہر سال نیوزی لینڈ کی آبادی کے برابر اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافے سے دیگر مسائل بھی جڑے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بچوں میں اموات کی شرح بڑھتی جا رہی ہے، یونیسف کے اعداد و شمار کے مطابق ہزار میں سے پچاس بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوزائیدہ بچوں، زچہ و بچہ کی دیکھ بھال یا تولیدی صحت کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہم متعدد قیمتی جانیں کھو دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا ایک اور اہم پہلو یہ ادراک ہے کہ آبادی میں اضافہ خود سنگین چیلنج ہے، وسائل کی بحث اپنی جگہ مگر زندگی کا حق بنیادی انسانی حق ہے جو اس مسئلے سے متاثر ہوتا ہے۔ اگر آبادی کے مسئلے کو تسلیم نہ کیا جائے اور اس کا احساس موجود نہ ہو تو یہ ایک بڑا المیہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر بچوں کی ماؤں کے مسائل ثانوی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں اور آگاہی کے فقدان کے باعث انہیں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔  اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ہر طبقے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، علما کرام، میڈیا، حکومت، قانون دان اور صحافی سب کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔حقوق اور ذمہ داریاں دونوں اس مسئلے سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ بڑھتی آبادی ترقی کی رفتار سست کر سکتی ہے جبکہ یہ معیشت اور بنیادی سہولیات پر بھی بوجھ ڈال رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے خطے میں ورکنگ ویمن کی شرح دیگر خطوں کے مقابلے میں کم ہے، یہ معاشرتی مسئلہ ہے اسے آگاہی کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔ آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ورکنگ گروپ تشکیل دینا ضروری ہے، ویمن کاکس کے پلیٹ فارم کو استعمال کرکے ایوان میں بحث کے ذریعے اس مسئلے کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا اس حوالے سے اقدام قابل ستائش ہے، ترقی برقرار رکھنے کے لئے متوازن آبادی ضروری ہے۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے’’ڈسکور پاکستان‘‘ کے زیر اہتمام ٹورزم ایوارڈز 2025ء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں۔ سیاح یہاں کی خوبصورتی سے بہت متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان کے مثبت تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس نانگا پربت، براڈ پیک جیسے خوبصورت مقامات ہیں۔ پاکستان کے پاس قدیم تہذیب گندھارا ہے۔ چولستان میں جیپ ریلی بھی ایک پرکشش کھیل ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں کی قدرتی خوبصورتی دنیا کو دکھانے کی ضرورت ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ غیر ملکی سیاح پاکستانیوں کی مہمان نوازی کے مداح ہیں، مہمان نوازی ہماری شاندار روایات کا حصہ ہے، پاکستان نے سفارتی محاذ پر بہت سی کامیابیاں سمیٹی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وزیر اطلاعات وفاقی وزیر کرنا ہوگا ا بادی کے نے کہا کہ کی ا بادی اس مسئلے کرنا ہو

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار