اسلام آباد(خبر نگار خصوصی) وزیرِخزانہ محمداورنگزیب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے سٹاف لیول ایگریمنٹ ہوچکا ہے۔ وفاقی داراحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمداورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستانی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، پچھلے 4 سے6 ہفتے میں کیا ڈویلپمنٹ ہوئی اس پر بات کریں گے۔اْنہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے سٹاف لیول ایگریمنٹ ہوچکا ہے، کلائمیٹ فنانسنگ بہت ضروری ہے، اصلاحات کے عمل میں پیشرفت جاری ہے،حکومت ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عمل پیرا ہے،ہمیں گروتھ میں تسلسل برقراررکھنا ہے، ایکسپورٹس میں 5فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ ایکسپورٹس ہماری مدد کررہی ہیں، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بہتری خوش آئند ہے، پائیدار ترقی کیلئے ادائیگی کا توازن اور کرنٹ اکاؤنٹ اہم ہیں۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئی ٹی شعبے میں ماہانہ بنیادوں پر بہتری دیکھی جا رہی ہے، ہم نے امپورٹ پر بھی بہت نظر رکھی ہوئی ہے، ترسیلات زر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، راتوں رات کچھ بھی ممکن نہیں۔ اْن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا پرائیویٹ سیکٹر ہی ملک کو لیڈ کرے گا، رواں مالی سال ترسیلات زر 41ارب ڈالر پر پہنچنے کاتخمینہ ہے، وزیراعظم نے کہا پرائیویٹ سیکٹر ہی ملک کو لیڈ کرے گا، حکومت نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج ختم کرنے کی ہدایت کی ہے، ہم پرائیویٹ سیکٹر کی تجاویز سن رہے ہیں، پرائیویٹ سیکٹر کی اچھی تجویز پر جلد سے جلد کام ہوگا۔ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج ختم کرنے کی ہدایت کی ہے، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج کے خاتمے کی کابینہ سے منظوری کیلئے سمری بھیجی جا چکی ہے، پالیسی ریٹ کم ہونے کا قرض ادائیگی پر مثبت اثر مرتب ہوا۔ اْنہوں نے مزید کہا کہ جلد پانڈا بانڈ کا اجرا کرنے جا رہے ہیں، این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے آئندہ ہفتے اجلاس ہو گا، ہم سب پاکستان فرسٹ ایجنڈے کو آگے لے کر چلیں گے، ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات پر پیشرفت بھی اہم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پرائیویٹ سیکٹر کا کہنا تھا کہ کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی