خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
متوقع نئے گورنر کے لیے تین سابق فوجی افسران اور تین سیاسی شخصیات کے نام زیر غور
تبدیلی کے حوالے سے پارٹی کا ہر فیصلہ قبول ہوگا، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی
خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے پر غور شروع کردیا گیا، گورنر راج کے لیے فیصل کریم کنڈی کو رکھنے یا ان کی جگہ نیا گورنر لانے کی تجویز زیر غور ہے ، متوقع نئے گورنر کے لیے تین سابق فوجی افسران اور تین سیاسی شخصیات کے نام سامنے آگئے ۔تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کے معاملے پر غور کیا جارہا ہے ، پہلی کوشش ہے کہ صوبہ موجودہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کے حوالے کردیا جائے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگران کے نام پر اتفاق نہیں ہوتا تو پھر دیگر تین سیاست دانوں کے نام زیر غور ہیں جن میں امیر حیدر ہوتی، پرویز خٹک اور آفتاب شیرپاؤ شامل ہیں۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اگر سیاست دانوں کے ناموں پر بھی اتفاق رائے نہیں ہوپاتا تو پھر سابق فوجی افسران کو بھی گورنر خیبرپختونخوا کی ذمہ داریاں دی جاسکتی ہیں۔نئے گورنر کے لیے سابق فوجی افسران میں سابق کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد ربانی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) غیور محمود اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان کے نام شامل ہیں۔دوسری جانب وزیراعظم آفس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے تاحال کوئی معاملہ زیرغور نہیں۔ دریں اثنا گورنر راج لگانے اور عہدے سے ہٹانے کی خبروں پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا ردعمل سامنے آگیا۔فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کی تبدیلی کے حوالے سے مجھے کچھ علم نہیں، اگر میڈیا ہی گورنر لگائے گا تو پھر اللہ حافظ ہے ۔فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ انکی تبدیلی کے حوالے سے پارٹی کا جو فیصلہ ہوگا وہ قبول کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ گورنر راج کی باتیں میڈیا کے ذریعے ہی سن رہا ہوں، صوبے کی ذمہ داری صوبائی حکومت کے پاس ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے صوبے کے حالات احتجاجوں کی اجازت نہیں دیتے ، صوبے میں امن وامان سمیت کئی مسائل ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ آئین میں گورنر راج کی شق موجود ہے مگر میرے ساتھ کسی نے کوئی بات چیت نہیں کی، آج تک میں یہ کہتا ہو کہ فی الحال گورنر راج کی کوئی بات ہی نہیں ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سابق فوجی افسران فیصل کریم کنڈی میں گورنر راج کے حوالے سے کے لیے کے نام
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :