اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل یقینی بنانے کے لیے صوبوں کا تعاون قابل تحسین ہے۔

وزارت خزانہ میں گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے وزرائے اعلیٰ، صوبائی وزرائے خزانہ، سیکرٹریز اور دیگر ارکان کا شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا یہ اجلاس ہمارے لیے آئینی ذمہ داری اور باہمی تعاون کا اہم موقع ہے۔

وزیر خزانہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ معزز فورم آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 150 کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ 10ویں این ایف سی ایوارڈ کی مدت 21 جولائی 2025 کو پوری ہو چکی ہے۔ اس پس منظر میں اس اجلاس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ وفاقی حکومت کا واضح اور پُختہ عزم تھا کہ 11ویں این ایف سی کا افتتاحی اجلاس کسی تاخیر کے بغیر بلایا جائے۔ وزیراعظم نے خود اس بات میں گہری دلچسپی لی کہ یہ اجلاس جلد از جلد ہو۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں نے بھی اس آئینی ذمہ داری کو بروقت ادا کرنے کا بھرپور ارادہ ظاہر کیا۔ پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے باعث یہ اجلاس مؤخر کرنا پڑا۔ این ایف سی کے حوالے سے قیاس آرائیوں اور خدشات کا بہترین حل مخلصانہ اور شفاف مکالمہ ہے۔ آج ہم یہاں کھلے ذہن اور بغیر کسی تعصب کے موجود ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح ایک دوسرے کی بات سننا ہے۔ وفاقی حکومت یہاں صوبوں کے مؤقف کو سننے کے لیے موجود ہے۔ مجھے امید ہے کہ صوبے بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعمیری تعاون کے جذبے سے آگے بڑھیں گے۔ صوبوں کی جانب سے نیشنل فِسکل پیکٹ پر دستخط انتہائی قابلِ قدر ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے مشترکہ عزم اور قومی مفاد میں مل کر کام کرنے کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔ صوبوں کی جانب سے لازمی سرپلسز کے حصول اور آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر تعاون قابلِ تحسین ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال ملک کو بھارت کی جانب سے غیر معمولی خطرات اور شدید سیلابوں جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کٹھن حالات میں ہم ایک مضبوط وفاق کی صورت میں متحد کھڑے رہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جسے ہم 11ویں این ایف سی ایوارڈ کے عمل میں بھی برقرار دیکھنا چاہتے ہیں۔ این ایف سی کا کردار ملک میں وسائل کی منصفانہ تقسیم، مالیاتی استحکام اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

این ایف سی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ فورم ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم بہترین حکومتی ذہنوں کو ایک جگہ جمع کر کے مشترکہ سوچ اور باہمی سیکھنے کے عمل کو آگے بڑھائیں۔ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں یہ بامقصد اور تعمیری مباحث جاری رہیں گے۔ امید ہے تمام اراکین بامعنی اور جامع مکالمے کے لیے بھرپور عزم کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ایک دوسرے کی بات سننے اور باہمی اتحاد، تعاون اور باہمی احترام کے جذبے کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھائیں گے۔ 11ویں این ایف سی ایوارڈ کے معاملات کو کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہماری منزل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایف سی اور باہمی نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔

مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔

سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم