کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں 3 خواتین کی پراسرار موت نے علاقے کو سوگوار اور شہر کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

3 روز قبل ایک فلیٹ سے ماں، بیٹی اور بہو کی لاشیں برآمد ہوئیں، جن کی موت کے حوالے سے پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ واقعہ قتل ہے، اجتماعی خودکشی ہے یا کوئی اور وجہ ہے۔

خاندان شدید مالی بحران کا شکار تھا

پولیس کے مطابق متاثرہ خاندان گزشتہ کئی ماہ سے شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہا تھا اور ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد قرض میں ڈوبا ہوا تھا۔ گھر کے سربراہ اور اس کے بیٹے پر مختلف لوگوں کی طرف سے رقم کی واپسی کا دباؤ تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مالی بحران کے باعث گھر میں کشیدگی بڑھ چکی تھی اور رشتہ داروں سے بھی مدد کا سلسلہ ختم ہو گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے کراچی، فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں برآمد، ایک مرد تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل

ذرائع کے مطابق گھر کرائے پر لیا ہوا تھا۔گاڑی بھی لیز یا کرائے پر حاصل کی گئی تھی۔مالی دباؤ خاندان پر نفسیاتی اثرات ڈال رہا تھا

ایسے کئی کیسز میں دیکھا گیا ہے کہ شدید مالی بحران گھرانوں میں ذہنی دباؤ، گھریلو جھگڑوں اور نفسیاتی مسائل کو جنم دیتا ہے، جو بعض اوقات سنگین نتائج کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

بیٹے نے نیند کی دوا پی لی

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گھر کا نوجوان بیٹا پراپرٹی کا کاروبار کرتا ہے اور واقعے کے روز اس نے جوس میں نیند کی گولیاں ملا کر پی تھیں، جس کے باعث اس کی حالت بگڑ گئی۔ پولیس کے مطابق یہ اقدام کسی شدید ذہنی دباؤ، مالی مشکلات یا صدمے کا ردعمل ہو سکتا ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں کہ یہ حرکت اتفاقی تھی، خودکشی کی کوشش تھی یا واقعے سے جڑا کوئی اور پہلو۔

گھر کے سربراہ سے ملا خط اہم ثبوت بن گیا

پولیس نے گھر کے سربراہ (والد) کے پاس سے ایک خط بھی برآمد کیا ہے، جسے تفتیش میں اہم ثبوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خط کے مندرجات سامنے نہیں لائے گئے، تاہم پولیس کے مطابق خط کی تحریر اور نوعیت کی فارنزک جانچ کی جا رہی ہے۔ خط سے معاملے کی نوعیت کا سراغ ملنے کی توقع ہے۔

والد اور بیٹے دونوں کو حراست میں رکھا گیا ہے تاکہ تحقیقات میں مدد لی جا سکے۔

پوسٹ مارٹم کا کردار کلیدی

پولیس کے مطابق خواتین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ہی اس بات کا حتمی فیصلہ کرے گی کہ موت زہر سے ہوئی، دم گھٹنے سے ہوئی یا کوئی اور طبی، حادثاتی یا مجرمانہ وجہ سامنے آئے گی۔ اس سے تفتیش کا رخ واضح ہو جائے گا اور واقعے کی نوعیت کا بہتر تعین کیا جا سکے گا۔

قرض میں ڈوبا خاندان گوشہ نشین تھا

علاقہ مکینوں نے پولیس کو بتایا کہ خاندان گزشتہ کچھ عرصے سے اپنے آپ میں مگن رہتا تھا، زیادہ میل جول نہیں تھا اور گھر میں اکثر خاموشی کا ماحول رہتا تھا۔ مالی بحران کے باعث گھر کے حالات کافی عرصے سے خراب بتائے جاتے ہیں۔

مالی بحران اور گھریلو سانحات کا بڑھتا ہوا رجحان

ماہرین سماجیات کے مطابق پاکستان میں معاشی دباؤ، بڑھتے قرضے اور بے روزگاری کئی خاندانوں پر نفسیاتی بوجھ ڈال رہی ہے، جس کے باعث گھریلو سانحات اور افسوسناک واقعات بڑھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کے علاقے شرافی گوٹھ سے خاتون کی کئی روز پرانی تشدد زدہ لاش برآمد


اسی طرح بڑے شہروں میں کرائے کے گھروں میں رہنے والے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے خاندان اکثر شدید مالی دباؤ کا شکار رہتے ہیں، خصوصاً جب قرض خواہ رقم کی واپسی کا دباؤ بڑھا دیں۔

پولیس کی مزید تفتیش جاری

پولیس نے کہا ہے کہ فلیٹ سے ملنے والا ہر شواہد جانچ کے عمل سے گزرے گا۔ اہلِ خانہ سے مزید تفتیش کی جائے گی۔ مالی لین دین کا مکمل ریکارڈ حاصل کیا جائے گا۔ فیملی کے موبائل فونز اور ڈیجیٹل گفتگو کی بھی جانچ ہو گی۔

پولیس واقعے کو کھلا کیس قرار دے رہی ہے اور کسی بھی امکان کو رد نہیں کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں ملنے کا واقعہ کراچی گلشن اقبال.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کراچی گلشن اقبال پولیس کے مطابق مالی بحران خواتین کی شدید مالی کی لاشیں فلیٹ سے کے باعث رہی ہے گھر کے

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا