یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا، جون ایلیا کا 94 واں یوم پیدائش آج
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
روایت شکن لہجہ، سادگی، بے باکی اور منفرد انداز، جون ایلیا کو جس نے سنا سنتا چلا گیا، وہ آج بھی ہر عمر کے افراد میں مقبول ہیں، مداح ان کا 94 واں یوم پیدائش منا رہے ہیں۔
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
منفرد لب و لہجہ اور سادہ الفاظ کو خوبصورتی سے ادا کرنے والے جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 23 برس بیت گئے۔
اپنے الگ نقطہ نظر اور غیر معمولی علمی صلاحیت کی وجہ سے جون ایلیا ادبی حلقوں میں آج بھی خاص مقام رکھتے ہیں۔
14 دسمبر 1931 کو بھارت میں پیدا ہونے والے جون ایلیا کا اصل نام سید حسین جون اصغر نقوی تھا، جون ایلیا کو اردو کے علاوہ انگریزی، عربی اور فارسی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا۔
14 دسمبر 1931 کو بھارت میں پیدا ہونے والے جون ایلیا کا اصل نام سید حسین جون اصغر نقوی تھا، جون ایلیا کو اردو کے علاوہ انگریزی، عربی اور فارسی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا۔
ان کا پہلا شعری مجموعہ 'شاید' 1991 میں شائع ہوا، جسے اردو ادب کا دیباچہ قرار دیا گیا، جون ایلیا کی شاعری سماج اور روایت کے خلاف بغاوت ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ جون ایلیا اپنی فکر اور شاعری میں منفرد تھے، وہ ان نمایاں لوگوں میں سے تھے، جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد جدید غزل کو فروغ دیا۔
زندگی میں اور زندگی کے بعد بھی مقبول ترین شعراء میں شامل جون ایلیا کی 5 کتابیں ان کی وفات کے بعد شائع ہوئیں۔
شاعر، ادیب اور فلسفی جون ایلیا کا انتقال 8 نومبر 2002ء کو کراچی میں ہوا۔
ان کا مشہور شعر:۔
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔