سوریا کمار یادو کی کارکردگی کیوں خراب ہوگئی؟ سابق بھارتی کرکٹر کا اہم انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
سابق بھارتی کرکٹر سنجے بانگر کا کہنا ہے کہ بھارتی ٹیم کے لچکدار بیٹنگ آرڈر کے لائحہ عمل نے بین الاقوامی کرکٹ میں سوریا کمار یادو کے کردار کو گرا دیا ہے۔
سابق بھارتی بیٹنگ کوچ نے ایک چینل پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب ٹیم کی سوچ کا عمل ہے۔ آپ ٹیم میں تین، سات اور آٹھ نمبر کو کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ جبکہ ممبئی انڈینز میں سوریا کمار کی ایک مستحکم پوزیشن ہے۔ اگر وہ تیسرے نمبر پر تھے تو وہ اس ہی نمبر پر ہی آئے۔ وہ اتنے معیاری کھلاڑی ہیں کہ جتنی زیادہ گیندیں ان کو ملیں گی وہ کھیل کو اتنا بہتر انداز میں بدل سکتے ہیں۔
سنجے بانگر نے مزید کہا کہ ان کو پیچھے موجود وکٹوں کا پریشر نہیں ہونا چاہیئے۔ ابتداء میں وہ نمبر تین پر آتے تھے، تب وہ بہتر تھے۔ آئی پی ایل میں انہوں نے 16 اننگز میں 65 کی اوسط اور 168 کے اسٹرائیک ریٹ سے رن اسکور کیے۔ لیکن اگر آپ ان کی انٹرنیشنل اننگز دیکھیں گے تو وہ بہت نیچے آئے ہیں۔ ان کا 14 کا اوسط اور 126 کا اسٹرائیک ریٹ ہے۔
واضح رہے سوریا کمار یادو نے گزشتہ برس نومبر کے بعد سے کوئی نصف سینچری اسکور نہیں کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوریا کمار
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔