فیض حمید کا کورٹ مارشل ادارے کا اندرونی معاملہ ہے، معاون خصوصی خیبر پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
اپنے بیان میں شفیع جان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ گورننس کے ساتھ ساتھ پارٹی بیانیہ بھی مؤثر انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ فیض حمید کا کورٹ مارشل ادارے کا اندرونی معاملہ ہے۔ اپنے بیان میں شفیع جان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ گورننس کے ساتھ ساتھ پارٹی بیانیہ بھی مؤثر انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکرقومی اسمبلی مذاکرات کی بات تو کررہے ہیں لیکن محمود اچکزئی کا بطور اپوزیشن لیڈر اعلامیہ جاری نہیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فیض حمید کا کورٹ مارشل ادارے کا اندرونی معاملہ ہے، ہر ادارے میں سزا و جزا کا نظام ضروری ہے۔ شفیع جان نے کہا کہ پی ٹی آئی کےخلاف بنائے گئے مقدمات بے بنیاد اور جعلی ہیں، ہری پور ضمنی الیکشن کے دستخط شدہ فارم 45 حاصل کر لیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شفیع جان
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔