ملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی، این ڈی ایم اے کی ایڈوائزری جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے پیش گوئی کی ہے کہ 13 سے 18 دسمبر 2025 کے دوران ملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور برف باری کا امکان ہے اور اس حوالے سے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
این ڈی ایم اے کی ایڈوائزری کے مطابق بالائی خیبر پختونخواہ، کوہستان، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش اور برف باری کا امکان ہے، 13 سے 15 دسمبر کے دوران مغربی ہواؤں کا سلسلہ شمالی و مغربی پاکستان کے مختلف علاقوں میں اثر انداز ہو گا۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ موسمی صورت حال کے باعث دھند کی شدت میں بھی اضافے کا امکان ہے، میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش جبکہ پہاڑی اور بالائ علاقوں میں برف باری ہوسکتی ہے، کوہستان، بالائی خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں شدید برف باری کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے نے بتایا کہ برف باری کے باعث پہاڑی راستوں پر ٹریفک کی روانی متاثر اور بعض مقامات پر سڑکیں بند ہونے کا خدشہ ہے، کوئٹہ، زیارت اور شمال مغربی بلوچستان کے بعض علاقوں میں ہلکی بارش اور پہاڑی علاقوں میں برف باری متوقع ہے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ 16 سے 18 دسمبر کے دوران برف باری کی شدت میں کمی تاہم سردی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے، بالائی علاقوں میں برفباری کے باعث سڑکوں پر پھسلن کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے اور شمالی علاقوں میں متعدد مقامات پر وقفے وقفے سے ہلکی برف باری کا امکان ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے سیاحوں اور مسافروں سے التماس کی ہے کہ پہاڑی علاقوں کے غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں جبکہ این ڈی ایم اے ممکنہ موسمی صورت حال اور ممکنہ خطرات کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو پیشگی آگاہی فراہم کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: برف باری کا امکان ہے بالائی علاقوں ڈی ایم اے علاقوں میں بارش اور
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔