ملک معاشی بحران سے نکل چکا، ادارہ جاتی اصلاحات سے گڈ گورننس میں اضافہ ہو گا، وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک معاشی بحران سے نکل چکاہے، ترقی کی جانب رواں دواں ہیں، ادارہ جاتی اصلاحات سے گڈ گورننس میں اضافہ ہو گا، نوجوان قیمتی اثاثہ ہیں،فنی ٹریننگ دے کر برسر روزگار کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، معاون خصوصی ہارون اختر، برطانوی وزیر برائے بین الاقوامی ترقی دی رائیٹ آنر ایبل بیرونیس چیپمین ،اراکین پارلیمنٹ ، کاروباری شخصیات و دیگر بھی موجود تھے۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ آج میرے لیے یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ میں اس افتتاحی تقریب میں موجود ہوں ،کاروباری طبقے اور عوام کی جانب سے ان اصلاحات کا مطالبہ گزشتہ کئی دہائیوں سے تھا۔
سرمایہ کار ، صنعت کار تاجر برادری پیچیدہ قوانین غیر ضروری ضوابط اور طویل طریقہ کار سے پریشان تھے،ریگولیٹری فریم ورک کا اجرا کوانٹم جمپ کی حیثیث رکھتا ہے،ان اصلاحات سے کاروباری برادری اور عوام کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے، میں معاون خصوصی ہارون اختر اور ان کی پوری ٹیم کو ان شاندار اصلاحات پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
محمد شہباز شریف نے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار اور نازک صورتحال سے دوچار تھی، پالیسی ریٹ معیشت کو مفلوج کر چکا تھا،مہنگائی بے قابو اورملک میں کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں،بیرون ممالک سے سرمایہ کاری رک گئی تھی ، ملک مکمل طور پر دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا تھا۔
انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت نے امید کا دامن نہیں چھوڑا ، بہتر حکمت عملی سے چیلنجز کا مقابلہ کیااور ایک پوری ٹیم ورک کے ذریعے دن رات کام کر کے ملک کو اس دلدل سے نکالا۔
انہوں نے کہاکہ آج الحمد اللہ پاکستان معاشی بحران سے نکل چکا ہے،معاشی اشاریے بہت بہترہو چکے ہیں ،غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور ملک میں سرمایہ کاری میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
پشاور سے لے کر کراچی تک معاشی سرگرمیاں جاری ہیں،غیر ملکی ادارے بھی ہماری مثبت پالیسوں کے معترف ہیں ،بہتر حکمت عملی کی بدولت آئی ایم ایف نے 1.
وزیر اعظم نے کہا کہ نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں جنہیں برسرروز گار کرنے کے لیے فنی وپیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کا ر لائے جارہے اورآسان کاروبار سکیم سے ہزاروں نوجوان مستفید ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی سے نوجوانوں کو نہ صرف ملک بلکہ بیرون ممالک میں بھی روزگار کے مواقع میسر آئیں گے،جس سے ملک سے نہ صرف بیروزگاری کا خاتمہ ممکن ہو گا بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں سے مل کر ادارہ جاتی فرہم ورک کو بہتر کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے ،تعلیم ،زراعت ،صنعت ،صحت،سوشل سیکٹر سمیت دیگر شعبوں میں اصلاحات کے بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ عوام کے مسائل کا ادراک ہے جس کے لیے دن رات کوشاں ہیں ،ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر چکے ،مزید ٹارگٹس حاصل کرنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں،معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے،سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات،برطانیہ ،امریکہ سمیت دیگر دیگر ممالک سمیت مختلف سیکٹرز میں بہتری کے لیے بھرپورتعاون فراہم کر رہے ہیں،جلد ملک کو معاشی قوت بنائیں گے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر نے کہا کہ حکومت مختلف شعبوں میں اصلاحات متعارف کرا رہی ہے، یہ صرف ایک پالیسی نہیں بلکہ ایک نئے باب کا آغاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقیاتی ریاست ہمیشہ جرات مند، سہولت فراہم کرنیوالی اور مستقبل پر نظر رکھنے والی ہوتی ہے،ترقیاتی ریاست شہریوں کو لال فیتے کے بجائے جدت ، مقابلہ ،تعمیر اور ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف واضع ویژن، انتھک محنت اور صلاحیت کو کارکردگی میں بدلنے کا پختہ عزم رکھتے ہیں، ان کی مدبرانہ قیادت میں ملکی ترقی کے اس سفر کو جاری رکھیں گے۔
برطانوی وزیر برائے بین الاقوامی ترقی دی رائیٹ آنر ایبل بیرونیس چیپمین نے کہا کہ ریگولیٹری اصلاحات کے اجرا کی اس تقریب میں شرکت باعث اعزاز ہے،جو دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مال اور سرمایہ کاری کیلئے بہترین ملک ہے، قدرتی وسائل سے بھر پور عالمی تجارتی راستوں کے مرکز پر ہونے کے باعث پاکستان توجہ کا مرکز ہے،دونوں ممالک آپس میں تجارتی روابط بڑھانے کے لیے پر عزم ہیں۔
قبل ازیں وزیر اعظم محمد شہبازشریف نے نیشنل ریگولیٹری اصلاحات کا افتتاح کیا۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل انہوں نے کہاکہ انہوں نے کہا سرمایہ کاری شہباز شریف نے کہا کہ اضافہ ہو شریف نے کے لیے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔