عمران و فیض کی باقیات آج بھی سسٹم میں موجود ہیں، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
سیالکوٹ (نیوزڈیسک) خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کی قیادت طالبان کو بھتہ دیتی ہے اور فیض حمید نے بانی کو تقویت دینے کے لیے طالبان کی سہولت کاری کی۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید پر مزید الزامات بھی ہیں جن پر قانونی کارروائی کی جائے گی، عمران خان اور فیض کے عناصر اب بھی اندر موجود ہیں اور ملک کی صورتحال پر اثر ڈال رہے ہیں۔
بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا پراجیکٹ تقریباً 12 سال قبل زور و شور سے شروع ہوا، جس میں لاہور میں پہلے جلسے کی ارینجمنٹ بھی نادیدہ ہاتھوں نے کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو سازش کے تحت اقتدار سے نکالا گیا اور قید کیا گیا، جبکہ بانی کو دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا،فیض حمید اس پراجیکٹ کے انچارج تھے اور بانی کے مفادات کا تحفظ کر رہے تھے، ان دونوں نے مل کر ملک کو برباد کیا اور عوام جانتے ہیں کہ بانی نے وعدے پورے نہیں کیے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان اور فیض حمید ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم تھے اور ان کے تعلقات ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے۔
خواجہ آصف کے مطابق تبادلے کے بعد فیض حمید ایکسپوز ہونا شروع ہوئے اور کور کمانڈر کی حیثیت سے انہیں سہولتیں فراہم کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ نو مئی کے واقعات کے پیچھے بھی فیض حمید کا دماغ تھا اور اس کی پلاننگ انہوں نے ہی کی تھی جبکہ افرادی قوت پی ٹی آئی نے فراہم کی۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ سازشی عناصر آج بھی بانی کو سپورٹ کر رہے ہیں اور فیض حمید کے آلہ کار اب بھی ان کے ساتھ ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاک فوج نے بنیان المرصوص میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا اور اگر فیض اور بانی کا منصوبہ کامیاب ہوتا تو ملک کی صورتحال خطرناک ہو سکتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ابھینندن کی گرفتاری پر فیض اور بانی کے کانپیں ٹانگ رہی تھیں اور اگر یہ گٹھ جوڑ موجود رہتا تو نہ جانے پاکستان کا کیا ہوتا۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ ملک دشمنوں کا احتساب جاری رہے گا، چاہے وہ وردی میں ہوں یا سادہ لباس میں ہوں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ فیض حمید فوجی عدالت اور آرمی چیف کے سامنے اپیل دے سکتے ہیں اور ہائی کورٹ میں بھی اپیل دائر کر سکتے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان اور فیض کے عناصر اب بھی اندر موجود ہیں اور ملک کی صورتحال پر اثر ڈال رہے ہیں، جبکہ مغربی سرحد پر بھارت کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کی قیادت طالبان کو بھتہ دیتی ہے اور فیض حمید نے بانی کو تقویت دینے کے لیے طالبان کی سہولت کاری کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش