کولکتہ: بدنظمی اور ہنگامہ آرائی، میسی اپنے مداحوں سے ملے بغیر ہی واپس روانہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
بھارتی شہر کولکتہ کے سالٹ لیک اسٹیڈیم میں عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی کی آمد کے موقع پر بدنظمی اور ناقص انتظامات کے باعث ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بدنظمی اور ناقص انتظامات کے باعث شائقین شدید غصے کا شکار ہو گئے، جس کے نتیجے میں اسٹیڈیم میں توڑ پھوڑ کے واقعات بھی پیش آئے۔
رپورٹس کے مطابق میسی مختصر وقت، تقریباً دس منٹ کے لیے اسٹیڈیم میں موجود رہے، جس پر مداحوں میں مایوسی پھیل گئی۔
#WATCH | Kolkata, West Bengal: Angry fans resort to vandalism at the Salt Lake Stadium in Kolkata, alleging poor management of the event.
Star footballer Lionel Messi has left the Salt Lake Stadium in Kolkata.
A fan of star footballer Lionel Messi said, "Absolutely terrible… pic.twitter.com/TOf2KYeFt9 — ANI (@ANI) December 13, 2025
ایک شائق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی خراب انداز میں منعقد کیا گیا ایونٹ تھا۔
ان کے مطابق میسی کے اردگرد سیاسی رہنماؤں اور وزراء کا ہجوم تھا، جس کی وجہ سے عام شائقین انہیں دیکھ بھی نہ سکے۔
مداح کا کہنا تھا کہ میسی نے اپنی آمد پر نمائشی فٹبال بھی نہیں کھیلی جبکہ منتظمین کی جانب سے شاہ رخ خان کی آمد کے دعوے بھی پورے نہ ہو سکے۔
شائقین نے وقت، پیسے اور جذبات ضائع ہونے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔
واقعے کے بعد ریاستی حکام کی جانب سے لیونل میسی اور ان کے مداحوں سے باقاعدہ معذرت کی گئی اور اعلان کیا گیا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی قائم کی جا رہی ہے۔
یہ کمیٹی ریٹائرڈ جسٹس اشیم کمار رائے کی سربراہی میں کام کرے گی، جس میں چیف سیکریٹری اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ہوم اینڈ ہِل افیئرز) بھی شامل ہوں گے۔
کمیٹی واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داران کا تعین اور آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔
حکام نے ایک بار پھر تمام اسپورٹس شائقین سے دلی معذرت کی ہے۔
I am deeply disturbed and shocked by the mismanagement witnessed today at Salt Lake Stadium. I was on my way to the stadium to attend the event along with thousands of sports lovers and fans who had gathered to catch a glimpse of their favourite footballer, Lionel Messi.
I…
بعد ازاں لیونل میسی کے قیام کے ہوٹل کے باہر جمع ہونے والے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے بھی پولیس نے طاقت کا استعمال کیا۔
ذرائع کے مطابق میسی کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں شائقین ہوٹل کے باہر جمع ہو گئے تھے، جس کے باعث سیکیورٹی صورتحال کشیدہ ہو گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہجوم کے بڑھتے دباؤ اور امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے معمولی لاٹھی چارج اور دیگر اقدامات کرنا پڑے۔
#WATCH | Kolkata, West Bengal: Police personnel use mild force to disperse the crowd that had gathered outside the hotel where star footballer Lionel Messi was staying
Angry fans today vandalised the Salt Lake Stadium in Kolkata, alleging poor management of the event.… pic.twitter.com/u58JR0xNG3
انتظامیہ کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر یہ کارروائی ضروری تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔