data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارت میں ارجنٹینا کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی کا دورہ غیر معمولی بدنظمی اور ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا، کلکتہ میں لیونل میسی کی اسٹیڈیم آمد ایک یادگار استقبال کے بجائے بدنظمی کے افسوسناک مناظر میں تبدیل ہو گئی، صورتحال اس قدر بگڑ گئی کہ اسٹار کھلاڑی کو محض دس منٹ بعد ہی اسٹیڈیم چھوڑنا پڑا، جس پر شائقینِ فٹبال میں شدید مایوسی پھیل گئی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق لیونل میسی اپنے عالمی شہرت یافتہ گوٹ ٹور (GOAT Tour) کے سلسلے میں بھارتی شہر کلکتہ پہنچے تھے، جہاں ویویکانند یووا فٹبال اسٹیڈیم میں ان کے استقبال کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ تاہم میسی کی آمد کے ساتھ ہی اسٹیڈیم کے اطراف اور اندرونی حصوں میں بدانتظامی نے جنم لے لیا، جس کے باعث اچانک ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔

مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ میسی کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہزاروں مداح گھنٹوں پہلے اسٹیڈیم پہنچ چکے تھے، مگر سخت سیکیورٹی انتظامات اور محدود رسائی نے شائقین کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا۔ صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب پرجوش مداحوں کی بڑی تعداد مشتعل ہو گئی اور اسٹیڈیم کے اطراف توڑ پھوڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

رپورٹس کے مطابق مایوس اور غصے سے بھرے فینز نے پوسٹر ہورڈنگز کو نقصان پہنچایا، بوتلیں اچھالیں اور احتجاجی نعرے بازی شروع کر دی، جس سے حالات مزید خراب ہو گئے۔ بدنظمی کے پھیلتے ہی سیکیورٹی اداروں نے حفاظتی اقدامات سخت کر دیے اور کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کے خدشے کے پیش نظر لیونل میسی سمیت دیگر اہم شخصیات کو فوری طور پر اسٹیڈیم سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اسٹار فٹبالر اور ان کے ہمراہ موجود شخصیات کو دس منٹ کے اندر اندر اسٹیڈیم سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، اس اچانک فیصلے نے ان ہزاروں شائقین کی امیدوں پر پانی پھیر دیا جو طویل انتظار کے بعد اپنے پسندیدہ کھلاڑی کو قریب سے دیکھنے کے خواب سجائے بیٹھے تھے۔ کئی مداحوں کو میسی کی باقاعدہ جھلک تک نصیب نہ ہو سکی۔

اسٹیڈیم کے اندر اور باہر پیش آنے والے ڈرامائی مناظر دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے، جہاں صارفین نے انتظامی ناکامی اور ناقص سیکیورٹی پلاننگ پر شدید تنقید کی۔

واضح رہے کہ 2011 کے بعد لیونل میسی کا یہ پہلا دورۂ بھارت تھا، جس کے باعث شائقین کی توقعات غیر معمولی حد تک بلند تھیں، اس سے قبل میسی نے اسی اسٹیڈیم میں ارجنٹینا اور وینزویلا کے درمیان کھیلے گئے دوستانہ میچ میں شرکت کی تھی، جس میں ارجنٹینا نے ایک کے مقابلے میں صفر سے کامیابی حاصل کی تھی۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: لیونل میسی میسی کی ہو گئی

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا