امریکی کانگریس میں ناٹو سے علیحدگی کا بل پیش
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-01-9
واشنگٹن(مانیٹر نگ ڈ یسک) امریکا کی ناٹو سے علیحدگی کے مطالبے پر مبنی بل امریکی کانگریس میں پیش کر دیا گیا۔عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ بل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ریاست کینٹکی سے رکن کانگریس ٹامس میسی نے پیش کیا، بل کے مسودے کے مطابق ناٹو موجودہ امریکی قومی سلامتی کے مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ٹامس میسی نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ناٹو سرد جنگ کی یادگار ہے اور اس دفاعی اتحاد کے لیے امریکی فنڈنگ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اس سے علیحدہ ہونا چاہئے اور اس رقم کو اپنے ملک کے دفاع کے لیے استعمال کرنا چاہئے۔سوشلسٹ ممالک کے لیے بل کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ ناٹوکے رکن یورپی ممالک اپنے دفاع کے لیے کافی اقتصادی اور فوجی صلاحیت رکھتے ہیں۔مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دفاعی اتحاد ناٹو نے 1999ء میں مشرق کی طرف اپنی وسیع پیمانے پر توسیع کا آغاز کیا، باوجود اس کے کہ اس کی مطابقت اور بیانات اس کے برعکس ہیں، ناٹو اب امریکی قومی سلامتی کے موجودہ مفادات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے، ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان اس بل پر کب غور کر سکتا ہے۔امریکی کانگریس کے ریپبلکن رکن ٹامس میسی اس سے قبل دوسرے ممالک کے معاملات میں امریکی مداخلت اور واشنگٹن کی طرف سے طاقت کے استعمال کی مخالفت کر چکے ہیں، خاص طور پر انہوں نے 22 جون کو ایرانی تنصیبات پر امریکی حملوں کو امریکی آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام پر تنقید کی تھی۔واضح رہے کہ ان بیانات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹامس میسی پر جوابی تنقید کی تھی، انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ریپبلکن پارٹی کے پرائمری انتخابی مقابلے میں میسی کے حریف کی حمایت کریں گے، نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن ( ناٹو ) 1949ء میں قائم ہوئی، اس وقت اس کے رکن ممالک کی تعداد 12 تھی جو اب بڑھ کر 32 تک پہنچ چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز