دہلی کانگریس کمیٹی کی "ووٹ چور گدی چھوڑ" ریلی کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں، دیویندر یادو
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے اعلان کیا کہ 14 دسمبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ہونے والی "ووٹ چور گدی چھوڑ" مہا ریلی کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں 14 دسمبر 2025ء کو ہونے جا رہی کانگریس کی "ووٹ چور گدی چھوڑ مہا ریلی" کی تیاریاں پورے زور و شور سے چل رہی ہے۔ اسی ضمن میں دہلی کانگریس اقلیتی شعبہ کی اہم میٹنگ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے دفتر راجیو بھون میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت دہلی کانگریس اقلیتی شعبہ کے چیئرمین عبدالواحد قریشی نے کی۔ میٹنگ میں دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو، انچارج الطاف حسین، میڈیا و کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین انل بھردواج کے علاوہ اقلیتی شعبہ کے سبھی عہدیداران و کارکنان بڑی تعداد میں شرکت کی۔
میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے اعلان کیا کہ 14 دسمبر کو رام لیلا میدان میں ہونے والی "ووٹ چور گدی چھوڑ" مہا ریلی کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بار ریلی میں دہلی کانگریس کارکنان کی شرکت تاریخی سطح پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کارکنان کے ساتھ ساتھ دہلی کے ہر گھر میں اس پر بات کی جا رہی ہے۔ ریلی میں نہ صرف کارکن بلکہ دہلی کے شہری بھی بڑی تعداد میں شامل ہوں گے تاکہ وہ راہل گاندھی کو براہ راست سن سکیں۔ دیویندر یادو نے کہا کہ وہ خود اس ریلی میں بادلی اسمبلی حلقہ سے کانگریس کارکنان کے ساتھ شرکت کریں گے۔ میٹنگ میں ریلی کے تعلق سے بات کرتے ہوئے چیئرمین عبدالواحد قریشی نے کہا کہ 14 دسمبر کی مہا ریلی کوئی معمولی ریلی نہیں ہے یہ ریلی الیکشن میں ہو رہی دھاندلی اور ووٹ چوری کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہلی کانگریس کا ایک ایک سپاہی اس ریلی کی تیاریوں میں پوری جی جان سے لگا ہوا ہے اور اقلیتی شعبہ بھی پوری طرح ریلی کو کامیاب بنانے کے لئے کمر بستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی کام تبھی اپنے مقصد کو پہنچتا ہے جس میں سب کا مشورہ شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی شعبہ کے جتنے بھی اراکین و عہد دران ہیں وہ اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیں کہ 14 دسمبر کو اپنے اپنے علاقوں سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت ریلی میں کروائیں۔ تاہم اس کے لئے لوگوں کو ووٹ چوری جیسے سنگین معاملے کے بارے میں ضرور بتائیں کہ جو ووٹ تم اپنی ترقی و خوشحالی کے لئے دیتے ہو وہ اگر چوری ہو رہا ہے تو یہ ہم سب کے لئے غور و فکر اور اس کے خلاف آواز بلند کرنے کا وقت ہے۔ اس کے خلاف ہمیں آواز بلند کرنی چاہیئے۔
عبد الواحد قریشی نے کہا کہ ہمارے لیڈر راہل گاندھی "ووٹ چوری" کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور وہ اس ملک اور لوگوں سے بے حد پیار کرتے ہیں، آج ووٹ چوری کا مدعا پورے ملک میں ہو رہا ہے جس کا انکشاف کئی بار ہمارے لیڈر راہل گاندھی کر چکے ہیں اور دلیلیں بھی پیش کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود موجودہ سرکا ر مسلسل جھوٹ بول رہی ہے۔ کانگریس پارٹی کی تاریخ رہی ہے جب جب ملک میں عوام کے ساتھ دھوکہ یا ناانصافی ہوئی اس نے لوگوں کے حق کی لڑائی لڑی ہے اور آج ووٹ چوری کے خلاف کانگریس پارٹی راہل گاندھی کی قیادت میں 14 دسمبر کو جو مہا ریلی کرنے جا رہی ہے اور ہمیں پوری امید ہے کہ یہ ریلی کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ دہلی کانگریس دیویندر یادو اقلیتی شعبہ راہل گاندھی کانگریس کا کہ 14 دسمبر دسمبر کو ریلی میں مہا ریلی ووٹ چوری دہلی کے کے خلاف ریلی کی کے لئے رہی ہے میں ہو
پڑھیں:
مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پاکستان کے مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی مومنہ اقبال حال ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں۔ لاہور میں ان کی دعائے خیر ، مہندی ، مایوں اور نکاح کی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال کے دلہا حمزہ حبیب کا تعلق لاہور سے ہے، وہ کامیاب اور مالی طور پر مستحکم کاروباری شخصیت ہیں تاہم وہ ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رہے۔ حالیہ دنوں میں مومنہ اقبال کو (ن ) لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کے معاملے پر حمزہ حبیب اپنی اہلیہ کی حمایت میں سامنے آنے کے بعد خبروں کا مرکز بن گئے۔ حمزہ حبیب کے مطابق ان کی اور مومنہ اقبال کی منگنی خاندانوں کی باہمی رضامندی سے ہوئی جب کہ دونوں خاندانوں کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات بھی ہیں۔ جوڑے نے مئی 2026 کے آخر میں ایک نجی تقریب میں نکاح کیا تھا۔ اس سے قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی سوشل میڈیا سٹوری کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے انہیں اور ان کی فیملی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اپنی تحقیقات کررہی ہے۔