میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے اعلان کیا کہ 14 دسمبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ہونے والی "ووٹ چور گدی چھوڑ" مہا ریلی کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں 14 دسمبر 2025ء کو ہونے جا رہی کانگریس کی "ووٹ چور گدی چھوڑ مہا ریلی" کی تیاریاں پورے زور و شور سے چل رہی ہے۔ اسی ضمن میں دہلی کانگریس اقلیتی شعبہ کی اہم میٹنگ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے دفتر راجیو بھون میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت دہلی کانگریس اقلیتی شعبہ کے چیئرمین عبدالواحد قریشی نے کی۔ میٹنگ میں دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو، انچارج الطاف حسین، میڈیا و کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین انل بھردواج کے علاوہ اقلیتی شعبہ کے سبھی عہدیداران و کارکنان بڑی تعداد میں شرکت کی۔

میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے اعلان کیا کہ 14 دسمبر کو رام لیلا میدان میں ہونے والی "ووٹ چور گدی چھوڑ" مہا ریلی کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بار ریلی میں دہلی کانگریس کارکنان کی شرکت تاریخی سطح پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کارکنان کے ساتھ ساتھ دہلی کے ہر گھر میں اس پر بات کی جا رہی ہے۔ ریلی میں نہ صرف کارکن بلکہ دہلی کے شہری بھی بڑی تعداد میں شامل ہوں گے تاکہ وہ راہل گاندھی کو براہ راست سن سکیں۔ دیویندر یادو نے کہا کہ وہ خود اس ریلی میں بادلی اسمبلی حلقہ سے کانگریس کارکنان کے ساتھ شرکت کریں گے۔ میٹنگ میں ریلی کے تعلق سے بات کرتے ہوئے چیئرمین عبدالواحد قریشی نے کہا کہ 14 دسمبر کی مہا ریلی کوئی معمولی ریلی نہیں ہے یہ ریلی الیکشن میں ہو رہی دھاندلی اور ووٹ چوری کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہلی کانگریس کا ایک ایک سپاہی اس ریلی کی تیاریوں میں پوری جی جان سے لگا ہوا ہے اور اقلیتی شعبہ بھی پوری طرح ریلی کو کامیاب بنانے کے لئے کمر بستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی کام تبھی اپنے مقصد کو پہنچتا ہے جس میں سب کا مشورہ شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی شعبہ کے جتنے بھی اراکین و عہد دران ہیں وہ اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیں کہ 14 دسمبر کو اپنے اپنے علاقوں سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت ریلی میں کروائیں۔ تاہم اس کے لئے لوگوں کو ووٹ چوری جیسے سنگین معاملے کے بارے میں ضرور بتائیں کہ جو ووٹ تم اپنی ترقی و خوشحالی کے لئے دیتے ہو وہ اگر چوری ہو رہا ہے تو یہ ہم سب کے لئے غور و فکر اور اس کے خلاف آواز بلند کرنے کا وقت ہے۔ اس کے خلاف ہمیں آواز بلند کرنی چاہیئے۔

عبد الواحد قریشی نے کہا کہ ہمارے لیڈر راہل گاندھی "ووٹ چوری" کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور وہ اس ملک اور لوگوں سے بے حد پیار کرتے ہیں، آج ووٹ چوری کا مدعا پورے ملک میں ہو رہا ہے جس کا انکشاف کئی بار ہمارے لیڈر راہل گاندھی کر چکے ہیں اور دلیلیں بھی پیش کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود موجودہ سرکا ر مسلسل جھوٹ بول رہی ہے۔ کانگریس پارٹی کی تاریخ رہی ہے جب جب ملک میں عوام کے ساتھ دھوکہ یا ناانصافی ہوئی اس نے لوگوں کے حق کی لڑائی لڑی ہے اور آج ووٹ چوری کے خلاف کانگریس پارٹی راہل گاندھی کی قیادت میں 14 دسمبر کو جو مہا ریلی کرنے جا رہی ہے اور ہمیں پوری امید ہے کہ یہ ریلی کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ دہلی کانگریس دیویندر یادو اقلیتی شعبہ راہل گاندھی کانگریس کا کہ 14 دسمبر دسمبر کو ریلی میں مہا ریلی ووٹ چوری دہلی کے کے خلاف ریلی کی کے لئے رہی ہے میں ہو

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف