WE News:
2026-07-24@03:21:49 GMT

مصنوعی ذہانت: کون سی نوکریاں ختم اور کون سی جنم لے رہی ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT

مصنوعی ذہانت: کون سی نوکریاں ختم اور کون سی جنم لے رہی ہیں؟

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا تیزی سے بڑھتا ہوا استعمال ملازمتوں کے مستقبل کے بارے میں نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔

مختلف شعبوں میں مشینیں انسانی محنت کی جگہ لے رہی ہیں، جس کے باعث قریباً ہر میدانِ عمل سے تعلق رکھنے والے ملازمین شدید تشویش کا شکار ہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ متعدد روایتی پیشے تیزی سے اے آئی کی نذر ہوتے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایکس اے آئی میں ڈاؤن سائزنگ، 500 سے زیادہ ملازمین نوکری سے فارغ

واضح رہے کہ ورلڈ اکنامک فورم کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2030 تک دنیا بھر میں 92 ملین ملازمتیں ختم ہو جائیں گی، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں کام کرنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد متاثر ہو سکتی ہے۔

تاہم اسی رپورٹ میں یہ پیش گوئی بھی کی گئی ہے کہ ٹیکنالوجی کی بدولت 170 ملین نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی، اور اسی لیے بڑی کمپنیاں اس سمت میں تیزی سے سرمایہ کاری کررہی ہیں۔

’کچھ پیشے ایسے ہیں جنہیں مکمل طور پر خودکار بنانا ممکن نہیں‘

ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ پیشے ایسے ہیں جنہیں مکمل طور پر خودکار بنانا ممکن نہیں۔ وہ شعبے جہاں انسان کا براہِ راست تعلق، جذباتی سمجھ بوجھ اور پیچیدہ فیصلہ سازی ضروری ہوتی ہے، مستقبل میں بھی نسبتاً محفوظ رہیں گے۔

ان میں تعلیم، طب، نرسنگ، سوشل ورک، نفسیاتی علاج، تحقیق، پالیسی سازی اور قانون جیسے شعبے شامل ہیں۔

اسی کے ساتھ ساتھ ہنرمند فنی پیشے جیسا کہ الیکٹریشن، مکینک اور پلمبر بھی محفوظ تصور کیے جا رہے ہیں، کیونکہ ان میں عملی تجربہ، فوری مسئلہ فہمی اور ہاتھ سے ہونے والے کام کی اہمیت بنیادی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تمام عوامل ابھی کسی مشین کے بس کی بات نہیں۔

دوسری جانب اے آئی نے نئے شعبوں میں ملازمتوں کے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔

آنے والے وقت میں کونسی نئی نوکریاں پیدا ہوں گی؟

ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں اے آئی ماڈل ٹرینر، ڈیٹا سائنس ماہر، پرامپٹ انجینیئر، روبوٹکس ٹیکنیشن اور اے آئی سیکیورٹی ایکسپرٹ جیسے عہدوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

’اسی طرح ڈیجیٹل ایتھکس کنسلٹنٹ، ورچوئل ماحول کے ڈیزائنر، خودکار گاڑیوں کے آپریٹرز اور ڈیجیٹل ہیلتھ اسسٹنٹ جیسے کردار بھی سامنے آ رہے ہیں، جو انسان اور ٹیکنالوجی کے درمیان پل کا کام کریں گے۔‘

مصنوعی ذہانت کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اب لوگوں کو نئے ہنر سیکھنے کی ضرورت ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ماضی میں آفس سافٹ ویئر سیکھنا ناگزیر تھا۔

امریکا اور برطانیہ میں ہونے والی 2 مختلف اسٹڈیز کے مطابق اے آئی کی بدولت یہ بھی ممکن ہے کہ 2033 تک لاکھوں ملازمین صرف 4 دن کام کریں۔

’اے آئی کچھ روایتی ملازمتوں کو محدود کرے گی‘

اگرچہ اے آئی کچھ روایتی ملازمتوں کو محدود کرے گی، جیسے ڈیٹا انٹری، بنیادی کسٹمر سروس، سادہ تحریری کام اور دفتری ڈیوٹیز تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان شعبوں میں کام کرنے والے افراد مکمل طور پر بے روزگار نہیں ہوں گے، بشرطیکہ وہ نئی مہارتیں سیکھ کر ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کریں۔

دنیا بھر میں نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں، کوڈنگ اور تخلیقی سوچ کی تربیت دینے پر زور بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان ’اے آئی‘ کے میدان میں آگے بڑھنے لگا، نوجوان ماہرین اور اسٹارٹ اپس کے لیے بے شمار مواقع

ٹیک ماہرین کے مطابق اے آئی انسان کی جگہ لینے نہیں، بلکہ اس کی صلاحیتوں کو بڑھانے آئی ہے۔ ادارے جو اس ٹیکنالوجی کو خطرہ سمجھنے کے بجائے موقع سمجھ کر اپنائیں گے۔ وہ مستقبل میں زیادہ کامیاب ثابت ہوں گے۔

پاکستان سمیت کئی ممالک میں نوجوانوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ مستقبل کی ملازمتیں ڈگری سے زیادہ مستقل سیکھنے، مہارتیں بڑھانے اور ٹیکنالوجی کو سمجھنے کی صلاحیت پر منحصر ہوں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ٹیکنالوجی ماہرین ڈیجیٹل مہارت مصنوعی ذہانت نئی نوکریاں نوکریوں کا بحران وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹیکنالوجی ماہرین ڈیجیٹل مہارت مصنوعی ذہانت نئی نوکریاں نوکریوں کا بحران وی نیوز مصنوعی ذہانت کے مطابق اے آئی

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ