سری نگر ہائی وے حادثہ ,سینئر ٹی وی اینکرزندگی کی بازی ہار گئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک :سری نگر ہائی وے پر پیش آنے والے افسوسناک ٹریفک حادثے میں معروف صحافی اور سینئر ٹی وی اینکر راجہ مطلوب طاہر جاں بحق ہوگئے, اس المناک واقعے نے ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ساتھ صحافتی حلقوں اور عوام کو بھی گہرے رنج و غم میں مبتلا کر دیا ہے۔
راجہ مطلوب مشہور اینکر وسیم بادامی کے انتہائی قریبی دوست تھے۔ وسیم بادامی جو دو دہائیوں سے شوبز اور کرنٹ افیئرز پروگرامز کی میزبانی کر رہے ہیں اس خبر سے شدید متاثر ہوئے اور سوشل میڈیا پر دعا کی درخواست کرتے ہوئے اپنے دوست کے لیے اللہ کی رحمت اور مغفرت مانگی۔
سستی اورمعیاری اشیاء کا حصول پنجاب کے عوام کا حق ہے:مریم نواز
وسیم بادامی نے ایکس (سابق ٹویٹر) پر لکھا کہ میرا دوست، جگر، یار زندہ دل انسان، ہر محفل کی جان، راجہ مطلوب کار حادثے میں دنیا سے چلے گئے۔ براہ کرم ان کے لیے دعا کریں۔ اللہ ان کے اہل خانہ کو صبر دے.
معروف اینکر اقرار الحسن نے بھی ٹوئٹر پر اپنے جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ دوستوں جیسا بھائی اور بھائیوں جیسا دوست، راجہ مطلوب کے درجات کی بلندی اور ہم سب کے صبر کے لیے دعا کریں۔
بارش اور برف باری کا امکان،سڑکیں بند ہونے کا خدشہ
راجہ مطلوب میڈیا کے شعبے سے تعلق رکھتے تھے اور اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں محنتی، مہربان اور قابل احترام شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کا اچانک انتقال صحافیوں اور میڈیا کے ساتھیوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔
اس حادثے پر دیگر شوبز شخصیات اور عوام نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ اقرار الحسن کی دوسری اہلیہ فرح یوسف نے انسٹاگرام پر راجہ مطلوب کی ایک پرانی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ راجہ بھائی، رات سے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ایسے کیسے؟ کیسے چلے گئے؟ اللہ اکبر, دعا کی التماس ہے.
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی متوقع
دوستوں جیسا بھائی اور بھائیوں جیسا دوست راجہ مطلوب کے درجات کی بلندی اور ہم سب کے صبر کے لیے دُعا کیجیے گا pic.twitter.com/SkGOOVDFKR
— Iqrar ul Hassan Syed (@iqrarulhassan) December 14, 2025
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: راجہ مطلوب کے لیے
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن