بھارت کو جدید ٹیکنالوجی کے ایک اہم عالمی اتحاد ’’پیکس سیلیکا‘‘ سے باہر کر دیے جانے کے بعد بھارتی حکومت کو شدید سفارتی دباؤ اور سیاسی تنقید کا سامنا ہے۔

بھارتی اپوزیشن نے اس فیصلے کو وزیرِاعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیا ہے۔

بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے سوال اٹھایا ہے کہ امریکا کی قیادت میں قائم ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی اتحاد سے بھارت کو کیوں نکالا گیا۔

اپوزیشن رہنما جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ مئی میں پاکستان کے ساتھ کشیدگی اور اس کے بعد ہونے والی پیش رفت نے بھارت کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

جے رام رمیش کے مطابق 10 مئی کے بعد بھارت کو کسی بڑے عالمی اتحاد سے باہر کیا جانا حیران کن نہیں، کیونکہ بھارت کی سفارتی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیکس سیلیکا جیسے اسٹریٹجک اتحاد سے اخراج مودی حکومت کی عالمی سطح پر تنہائی کی علامت ہے۔

پیکس سیلیکا امریکا کی قیادت میں قائم کیا گیا ایک نیا اسٹریٹجک اقدام ہے جس کا مقصد قابلِ اعتماد اتحادی ممالک کے ساتھ محفوظ سلیکون اور جدید ٹیکنالوجی کی سپلائی چین قائم کرنا ہے۔ اس اتحاد میں بھارت کی شمولیت نہ ہونا مودی حکومت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارتی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں ایسے عالمی اتحاد سے باہر ہونا بھارت کے مستقبل کے لیے تشویشناک ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق بھارت کی خارجہ پالیسی مسلسل ناکامیوں کا شکار ہے جس کے باعث عالمی سطح پر ملک کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جدید ٹیکنالوجی عالمی اتحاد اتحاد سے بھارت کی

پڑھیں:

علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی

ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی  گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان