پاکستان کرپٹو اپنانے والے دنیا کے پہلے 3 ممالک میں شامل ہو گیا: بلال بن ثاقب
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
اسلام آباد (آئی این پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے پہلے تین کرپٹو اپنانے والے ممالک میں شامل ہے۔ اگلے10 برس میں ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی خود مختاری مستحکم کر لیں گے۔ تین سے چار کروڑ پاکستانی ڈیجیٹل اثاثے استعمال کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بلال بن ثاقب نے کہا کہ تین سے چار کروڑ پاکستانی ڈیجیٹل اثاثے استعمال کرتے ہیں اور پاکستان کا شمار کرپٹو اپنانے والے دنیا کے تین ممالک میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بائنانس، ایچ ٹی ایکس کو این او سی کا اجرا نئی سوچ کا عملی قدم ہے۔ تاریخ میں پہلی بار عالمی ایکس چینجز کیلئے منظم، شفاف اور عالمی معیار کا راستہ کھول دیا ہے۔ یہ اقدام نئی سوچ کی عکاسی اور ادارہ جاتی تبدیلی ہے۔ ہم نے عالمی مالیاتی نظام کے تحت بروقت اور درست فیصلے کرنے ہیں۔ قانونی اور منظم راستے کے بغیر صلاحیتوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ پاکستان کا مستقبل امپورٹ نہیں ہونا چاہیے، یہاں آپ کے ہاتھوں بننا چاہیے، ہماری نوجوان نسل ورلڈکلاس ہے، آپ انووویشن کو اگنور یا ختم نہیں کر سکتے، صحیح پالیسیاں لانا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس جو مواقع موجود ہیں وہ بہت کم ممالک کے پاس ہیں، ہم کرپٹو کو ریگولیٹ کرنا چاہ رہے ہیں۔ ٹیلنٹ کا فائدہ تب ہے جب اس کے پاس ایک لیگل سٹرکچر یا فریم ورک ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔