تیزی سے پھیلنے والے سپر فلو وائرس کی پاکستان میں موجودگی کی باضابطہ تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والے سپر فلو وائرس نے عالمی صحت کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور اب اس وائرس کی پاکستان میں موجودگی کی بھی تصدیق ہو گئی ہے، جس کے بعد ملک میں احتیاطی اقدامات کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے، فلو کی یہ نئی قسم معمول کے موسمی انفلوئنزا سے مختلف ضرور ہے، مگر اس کا پھیلاؤ غیر معمولی رفتار اختیار کر چکا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق انفلوئنزا اے (A) کی نئی قسم H3N2 کے ذیلی گروپ ’سب کلاڈ K‘ کے باعث برطانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک میں فلو کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یورپی خطے میں موسمِ سرما کے آغاز سے پہلے ہی وائرس کے پھیلنے نے صحت کے نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جسے ماہرین غیر متوقع قرار دے رہے ہیں۔
محکمۂ صحت برطانیہ کے مطابق اسپتالوں میں روزانہ اوسطاً 2600 سے زائد مریض داخل ہو رہے ہیں، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
برطانوی وزیر صحت کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کووڈ-19 کے بعد اسپتالوں پر پڑنے والا سب سے بڑا دباؤ ہے۔ تاہم عالمی ادارۂ صحت کا مؤقف ہے کہ اگرچہ یہ نئی قسم زیادہ مہلک نہیں، مگر اس کی قبل از وقت اور تیز رفتار منتقلی تشویش کا باعث ضرور ہے۔
رپورٹس کے مطابق سپر فلو سے بچوں اور بزرگ افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جس کے پیشِ نظر برطانیہ میں متعدد اسکولز کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے جبکہ کچھ تعلیمی اداروں میں اوقاتِ کار محدود کر دیے گئے ہیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھی اس وائرس کی موجودگی سامنے آ چکی ہے، ملک میں لیے گئے نمونوں میں سے تقریباً 20 فیصد میں انفلوئنزا A(H3N2) کے ذیلی گروپ ’سب کلاڈ K‘ کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد طبی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معروف ماہرِ وبائی امراض ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے بتایا کہ سپر فلو کی علامات عام انفلوئنزا سے زیادہ مختلف نہیں ہوتیں، متاثرہ افراد میں سر درد، بخار، نزلہ، جسم میں درد اور نقاہت جیسی علامات سامنے آتی ہیں، تاہم کیسز کی تعداد معمول سے کہیں زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے سپر فلو کہا جا رہا ہے۔
ماہرِ وبائی امراض ڈاکٹر رانا جواد اصغر کا کہنا تھا کہ اس وائرس کو سپر فلو قرار دینے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں کچھ جینیاتی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، جس کے باعث اس کی منتقلی کی رفتار بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ احتیاطی تدابیر وہی ہیں جو عام فلو سے بچاؤ کے لیے اختیار کی جاتی ہیں، تاہم بچوں اور بڑی عمر کے افراد کے لیے فلو ویکسین خاص طور پر اہم ہے، کئی مغربی ممالک میں بچوں اور بزرگوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو بھی فلو کی ویکسین لگائی جا رہی ہے۔
ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ جن افراد میں فلو جیسی علامات ہوں وہ اسکول یا دفاتر جانے سے گریز کریں، متاثرہ افراد سے ہاتھ ملانے اور غیر ضروری میل جول سے پرہیز کیا جائے، تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ طبی ماہرین کے مطابق بروقت احتیاط اور آگاہی ہی اس تیزی سے پھیلنے والے سپر فلو کے اثرات کو محدود کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق تیزی سے سپر فلو
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔