موسیٰ خیل میں جرگے کا ظالمانہ فیصلہ: 8 افراد دہکتے انگاروں پر چلنے پر مجبور، انتظامیہ کا مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں صدیوں پرانی قبائلی رسم نے ایک بار پھر انسانی وقار کو مجروح کردیا، جہاں چوری کے شبے میں 8 افراد کو اپنی بےگناہی ثابت کرنے کے لیے دہکتے انگاروں پر ننگے پاؤں چلنے پر مجبور کیا گیا۔
حیران کن طور پر جب کوئی شخص زخمی نہ ہوا تو جرگے نے انہیں بےگناہ قرار دے دیا، لیکن اس غیرقانونی فیصلے نے پورے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔
واقعہ یونین کونسل کوٹ خان محمد میں پیش آیا، جہاں ایک دکان میں چوری کے بعد دکاندار کے اصرار پر مقامی جرگہ بلایا گیا۔ جرگہ ارکان نے روایتی قبائلی طریقہ اپناتے ہوئے 8 افراد کو دہکتے انگاروں پر چلنے کا حکم صادر کیا۔
یہ بھی پڑھیے چوری کا الزام: بلوچستان میں جرگے نے 8 افراد کو دہکتے انگاروں پر چلادیا، ویڈیو وائرل
عینی شاہدین کے مطابق تمام افراد نے شدید خوف کے باوجود انگاروں پر قدم رکھا، اور چونکہ کوئی بھی شخص جھلسنے سے محفوظ رہا، جرگے نے اسی بنیاد پر انہیں بےگناہ قرار دے دیا۔
واقعہ منظرِ عام پر آنے کے بعد ضلعی انتظامیہ حرکت میں آگئی۔ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کے مطابق غیر قانونی جرگہ منعقد کرنے اور افراد کو خطرناک رسم پر مجبور کرنے کے الزام میں 7 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔
ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعہ چند روز قبل پیش آیا تھا، تاہم مبینہ دباؤ اور بااثر شخصیات کے خوف کے باعث متاثرہ افراد بروقت بات سامنے نہ لا سکے۔
بلوچستان میں جرگوں کے تحت انگاروں پر چلانے کی رسم کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ 2021 میں بھی زیارت کے علاقے سانجاوی میں 2 نوجوانوں کو اسی اذیت ناک عمل سے گزرنا پڑا تھا، جس نے اس وقت انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت تنقید کو جنم دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے کوئٹہ: غیرت کے نام پر قتل،جرگہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟
ماہرِ نفسیات سعدیہ اشفاق کے مطابق ایسے واقعات اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ جدید دور میں بھی کئی علاقے غیر انسانی اور فرسودہ روایات کے سائے سے باہر نہیں نکل سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ انگاروں پر چلانے جیسے فیصلے نہ صرف جسمانی بلکہ شدید نفسیاتی تشدد کا باعث بنتے ہیں۔ اجتماعی دباؤ افراد کو اس مقام پر لے آتا ہے جہاں وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر بھی خوفِ رسوائی یا سماجی بائیکاٹ سے بچنا چاہتے ہیں۔ ایسے تجربات فرد کے ذہن میں مستقل خوف، بے بسی اور اعتماد کی شدید کمی پیدا کر دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ریاستی نظامِ انصاف تک رسائی آسان اور موثر نہیں ہوگی، لوگ روایتی جرگوں سے فیصلے کرواتے رہیں گے، جس کے نتیجے میں اس نوعیت کے غیر انسانی واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان دہکتے انگاروں پر چلنے کی رسم موسیٰ خیل جرگہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان موسی خیل جرگہ افراد کو
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک