نئے صوبوں کی تشکیل پر استحکام پاکستان پارٹی نے اپنے لائحہ عمل کا اعلان کر دیا۔

صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے کہا نئے صوبے بننے کا فائدہ عوام کے علاوہ حکمران سیاسی پارٹیوں کوبھی ہوگا، اگرسندھ میں تین صوبے بنتے ہیں توحکمران جماعت تین وزرائے اعلیٰ نامزدکرسکتی ہے، سندھ کی حکمران پارٹی تین صوبوں میں عوامی مسائل کا حل اور ترقی کا دورشروع کرسکتی ہے۔

صدرآئی پی پی نےمزید کہا تین صوبوں میں نئے آئی جی،نئے چیف سیکرٹریز اورنئے ہائی کورٹس بن سکتے ہیں،اس سے وہاں کے عوام کو بھی فائدہ ہوگا اور حکومتیں گڈ گورننس کرسکیں گی،اسی طرح پنجاب میں بھی حکمران پارٹی تین سے چارمزید صوبے تشکیل دے سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بھی حکمران جماعت کو مزید وزرائے اعلیٰ نامزد کرنے اورعوامی مسائل کے فوری حل کا موقع ملےگا،کسی صوبے کا نام تبدیل نہیں ہوگا، نئے صوبے شمالی، جنوبی، مغربی اور مشرقی صوبے کے نام سے ہونگے۔

صدر آئی پی پی نے کہا نئے صوبوں کے قیام سے  ملک بھر میں لوگوں کےمسائل اُن کی دہلیز پر حل ہوں گے، بلوچستان میں کوئٹہ سے گوادر کا فاصلہ ایک ہزارکلومیٹر کے لگ بھگ ہے، دور دراز کے شہریوں کو مسائل سے نجات دلانے کیلئے مزید صوبے بنانا ہوں گے،بلوچستان کے دور انداز علاقوں میں حل طلب مسائل زیادہ ہیں، بلوچستان میں لوگوں کو صوبائی دار الحکومت پہنچنے میں کئی کئی دن لگ جاتے ہیں،

انہوں نےکہاکے پی کے اورپنجاب میں بھی شہریوں کی دادرسی مزید بہترکرنےکی ضرورت ہے،نئے صوبوں کا قیام درحقیقت عوامی مشکلات کے حل کی طرف درست اقدام ہوگا،ہمیں تعصب کی عینک اتار کر عوامی مشکلات حل کرنے کے بارے میں سوچنا ہوگا، یہ قدم پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے ایک سنگ میل ثابت ہوگا،دل بڑا کریں، نئے صوبوں کی تجویز عوام کی فلاح و بہبود کے پس منظر میں دی جا رہی ہے،عبدالعلیم خان

کسی جماعت کو ایک کی بجائے تین تین وزرائے اعلیٰ مل جائیں تو اس میں کیا حرج ہے،اگر لوگوں کے مسائل زیادہ حل ہوں تو سیاسی جماعت بھی زیادہ مقبول ہو جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر

سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔

 محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔

 واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔ 

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا