بھارتی اداکارہ اور اماراتی سوشل میڈیا انفلوئنسر کے درمیان قربتیں؛ تصاویر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
متحدہ عرب امارات کے معروف انفلوئنسر خالد العامری کی سالگرہ میں ساؤتھ انڈین اداکارہ سنینا کی موجودگی نے سب کو حیران کردیا اور سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم ہوگیا۔
یہ چہ می گوئیاں اُس وقت اپنے عروج کو پہنچیں جب عرب دنیا کے مشہور زمانہ کنٹینٹ کریئٹر خالد العامری نے اپنی سالگرہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔
ان تصاویر میں سے ایک نے سب کی توجہ حاصل کرلی جس میں خالد العامری ایک خاتون کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں تاہم ان کا چہرہ نظر نہیں آ رہا۔
سالگرہ کی تصاویر کے اس البم میں اگلی ہی تصویر میں خالد العامری کی سیلفی ہے جو انھوں نے بھارتی اداکارہ سنینا یلا کے ساتھ بنائی ہے۔
خالد العامری کا ان تصویر کے ساتھ لکھا گیا دلکش کیپشن بھی مداحوں کو یقین دلانے کے لیے کافی تھا کہ جوڑے کے درمیان کچھ تو چل رہا ہے۔
ان تصاویر نے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی اور خالد العامری کے مداحوں نے جوڑے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔
سوشل میڈیا پر سنینا کے مداحوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔ وہ بھی اپنی پسندیدہ اداکارہ کو مبارک باد دینے میں پیچھے نہیں رہے۔
مداحوں کا کہنا ہے کہ یہ تقریب صرف سالگرہ نہیں بلکہ دونوں کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتوں اور نئے رشتے کا باضابطہ اعلان بھی ہوسکتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس ہی خالد العامری اور ان کی اہلیہ سلمی محمد کے درمیان طلاق ہوئی ہے اور ان کی نجی زندگی موضوع بحث بھی رہی تھی۔
جس پر سوشل میڈیا صارفین نے انھیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ آپ نے اپنے بچوں کی ماں پر ایک اداکارہ کو ترجیح دی۔
کسی نے لکھا کہ ایسی تصاویر شیئر کرنے سے پہلے بچوں کے بارے میں بھی سوچ لینا چاہیے تھا کہ وہ یہ سب دیکھ کر کیسا محسوس کریں گے۔
ایک اور صارف کا کہنا تھا اچھا تو یہ وہ خوبصورت موڑ تھا جس کے لیے اپنی ہنستی بستی زندگی کو چھوڑ دیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سوشل میڈیا پر خالد العامری کے درمیان
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔