وفاقی حکومت کا عمران خان کی اڈیالہ جیل سے ممکنہ منتقلی پر غور شروع
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی حکومت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ائی) اور سابق وزیراعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے کسی دوسری قید گاہ میں منتقل کرنے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی کے راستے محدود ہوتے جا رہے ہیں اور حکومت کے نزدیک پی ٹی آئی کی موجودہ حکمتِ عملی ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی منظم کوشش نظر آ رہی ہے، احتجاج کے نام پر انتشار پھیلانے اور تصادم کی فضا پیدا کرنے کی شعوری کوششیں کی جا رہی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے بھی اس بارے میں کھل کر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی پوری کوشش ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے دوسری جگہ منتقل کیا جائے اور حکومت بھی اب اس مطالبے یا خدشے کو محض سیاسی نعرہ نہیں سمجھ رہی بلکہ سنجیدگی سے اس پر غور کر رہی ہے۔
اختیار ولی کا مزید کہنا تھا کہ ریاست کسی صورت بدامنی اور دباؤ کی سیاست کے آگے جھکنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔
اختیار ولی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر سخت الزامات بھی عائد کیے، وزیراعلیٰ کا مبینہ طور پر منشیات کے اسمگلروں سے گٹھ جوڑ ہے اور ان کی کارکردگی صفر نہیں بلکہ منفی درجے میں ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ کے بعض قریبی رشتے دار بھی منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں، اور صوبے کی اعلیٰ قیادت اس جال کی سرپرستی کرتی ہے، جس سے حکومتی معاملات مزید خراب ہو رہے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر اڈیالہ جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ احتجاجی دھرنا دیا تھا۔
مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی، پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا اور ماحول میں شدید تناؤ دیکھنے میں آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز