آج کوئی ورکر بانی کی بہنوں یا وکلا کے ہمراہ اڈیالہ نہیں جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
آج کوئی ورکر بانی پی ٹی آئی کی بہنوں یا وکلا کے ہمراہ ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل نہیں جائے گا۔
حکومت کو کریک ڈاؤن یا رکاوٹ کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا جائے گا۔
اپوزیشن اتحاد کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ارکان نے اس متعلق مشترکا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کبھی مائنس نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ایک بڑی جماعت کے لیڈر ہیں، درخواست ہے بشریٰ بی بی اور بانی کی فیملی کی ملاقات کروائی جائے۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ پی ٹی آئی صرف بانی کی وجہ سے ہے، بانی کے بغیر پی ٹی آئی کچھ نہیں ہے، پی ٹی آئی میں مائنس ون کا فارمولا لاگو ہی نہیں ہو سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔