Islam Times:
2026-07-24@04:45:57 GMT

جولانی کا ایک سال

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

جولانی کا ایک سال

اسلام ٹائمز: گولانی حکومت نے شامی معاشرے کے بعض طبقات پر بہت سی پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں علوی اور دروز شامل ہیں۔ انہیں شام کے اندر سیاسی منظرنامے کی تشکیل میں وسیع پیمانے پر عوامی شرکت کی اجازت نہیں ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران شام کے سیاسی عمل پر مجموعی طور پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گولانی حکومت ملک کی اندرونی صورتحال پر توجہ دینے کے بجائے اقتدار میں رہنے کے لیے مغرب اور امریکہ کے ساتھ ساتھ متعدد عرب ممالک کی توجہ اور منظوری حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ تحریر: سید رضا عمادی

سابق شامی حکومت یعنی بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر علویوں کی سپریم اسلامی کونسل کے سربراہ شیخ غزال کی اپیل پر شام کے ساحلی علاقوں اور مغربی حما میں پیر کو وسیع پیمانے پر ہڑتال کی گئی۔ ایران پریس کے مطابق، لطاکیہ، جبلہ، طرطوس، صفیتا، الدریقیس اور حما کے مغربی دیہی علاقوں کے کچھ حصوں بالخصوص مسیاف میں عوامی سرگرمیاں بڑے پیمانے پر رکی ہوئی ہیں اور زندگی کے معمولات بری طرح متاثر ہوئے۔ مقامی ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ علوی اکثریت والے علاقوں میں ہڑتال کی وجہ سے روزانہ کی سرگرمیاں تقریباً مکمل طور پر بند ہوگئی ہیں۔

علویوں کی سپریم اسلامی کونسل کے سربراہ شیخ غزال نے پہلے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ عام ہڑتال 7 سے 12 دسمبر تک جاری رہے گی۔ انہوں نے اس اقدام کو دمشق حکومت کے دباؤ اور دھمکیوں کا "پرامن اور واضح جواب" قرار دیا اور تاکید کی کہ ہمارا ردعمل مکمل طور پر پرامن ہوگا اور اس کا اظہار عام ہڑتال اور پانچ دن تک گھروں میں رہنے کے ذریعے کیا جائے گا۔ ادھر شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ہنگامہ آرائی اور مسلح تصادم جاری ہے۔ گولان ہائٹس کی حکومت سے وابستہ فورسز نے خاص طور پر سہیل اور سویدا میں اقلیتی شہریوں پر حملے کرکے اندرونی تنازع کو تیز کر دیا ہے۔

میڈیا ذرائع نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ سنی عرب برادری میں بڑھتے ہوئے عدم اطمینان اور اقلیتوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات کی وجہ سے شام کی نئی حکومت کو سماجی حمایت کے بغیر اقلیتی حکومت بننے کا خطرہ ہے۔ ادھر شام میں ابو محمد الجولانی (احمد الشرع) کی حکومت کے حامی بشار الاسد حکومت کے خاتمے اور ملک میں دہشت گرد گروہوں کے عروج کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں۔ یہ جشن و خوشی ایسی حالت میں کہ شام تیزی سے علاقائی پیشرفت اور دمشق میں نئی ​​حکومت کی اختیار کردہ پالیسی کے سائے میں انتہائی پیچیدہ حالات سے گزر رہا ہے۔

گولانی حکومت کے سائے میں شام کا سیاسی تعطل
سیاسی سطح پر شام کا منظر بہت پیچیدہ ہوچکا ہے، جبکہ سیاسی تبدیلی کا عمل سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس منتقلی کے حصول کے لیے واضح راستوں کی کمی کی وجہ سے شامی آج ایک بڑے سیاسی جمود کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، اقتدار تحریر الشام کمیٹی کے رہنماء ابو محمد الجولانی کے قریبی لوگوں کے ایک خاص گروپ کے ہاتھ میں ہے، جو خود کو شام کی عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر متعارف کراتے ہیں۔ جمہوریت کے نقاب کے پیچھے اقتدار کی اس اجارہ داری، شامی باشندوں کو عبوری مرحلے کے تقاضوں جیسے کہ قومی مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل اور آئینی اعلامیے کا مسودہ تیار کرنے میں ناکامی کا باعث بنی ہے۔

اس کے علاوہ، گولانی حکومت نے شامی معاشرے کے بعض طبقات پر بہت سی پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں علوی اور دروز شامل ہیں۔ انہیں شام کے اندر سیاسی منظرنامے کی تشکیل میں وسیع پیمانے پر عوامی شرکت کی اجازت نہیں ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران شام کے سیاسی عمل پر مجموعی طور پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گولانی حکومت ملک کی اندرونی صورتحال پر توجہ دینے کے بجائے اقتدار میں رہنے کے لیے مغرب اور امریکہ کے ساتھ ساتھ متعدد عرب ممالک کی توجہ اور منظوری حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گولانی حکومت پیمانے پر حکومت کے ایک سال شام کے

پڑھیں:

فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔

وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں  کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں،  ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی