حکومت عدلیہ پر دباؤ ڈال کر سیاسی انجینیئرنگ کو آگے بڑھانا چاہتی ہے، پی ٹی آئی کا حنیف عباسی کے بیان پر ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حنیف عباسی کی 9 مئی سے متعلق جلد فیصلوں کی بات خود اعتراف ہے کہ حکومت عدلیہ پر دباؤ ڈال کر سیاسی انجینیئرنگ کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔
شعبہ نشرواشاعت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حنیف عباسی جیسے افراد کے لیے شاید یہ حقیقت سمجھنا سب سے مشکل ہے کہ عمران خان نے ہمیشہ پاکستان کی حفاظت، وقار اور اتحاد کے لیے ہر مشکل مرحلے پر اپنے ملک، اپنے اداروں اور اپنے لوگوں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوکر قیادت کی۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا پشاور میں جلسہ: بہت جلد ڈی چوک جانے کی کال دوں گا، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا اعلان
بیان کے مطابق بھارت پر سفارتی، عسکری اور بیانیاتی برتری سے لے کر عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کے بھرپور دفاع تک، عمران خان نے ملکی اداروں کی ساکھ کو مضبوط کیا جبکہ موجودہ مصنوعی، امپورٹڈ اور جعلی حکومت اختلاف کی ہر آواز کو دشمنِ ریاست قرار دینے کے گھٹیا ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔ اس سیاسی ڈھونگ کو عوام بار بار مسترد کرچکے ہیں۔
پی ٹی آئی نے کہاکہ جہاں تک بھارت سے متعلق سوال ہے تو پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ شریف خاندان کے بھارتی بزنس مینوں کے ساتھ کھلے کاروباری روابط، مودی سے ذاتی مراسم، جندال کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں، اور ہر بھارتی حکومت کے ساتھ نرم گوشہ رکھنے کی مثالیں خود ان کی سیاست پر سوالیہ نشان ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران عمران خان نے جیل سے مودی اور بھارت کو للکارا اور پوری پاکستانی قوم کو متحد ہونے کا پیغام دیا، مگر نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز اور پورا شریف خاندان مجرمانہ خاموشی اختیار کیے گونگے بن کر بیٹھا رہا۔
پی ٹی آئی کے مطابق بھارت سے قربت اور کاروباری شراکت داری تو ان کے خاندانی مفادات ہیں، ملک کا بیانیہ نہیں۔
’حنیف عباسی کی 9 مئی سے متعلق جلد فیصلوں کی بات خود اعتراف ہے کہ حکومت عدلیہ پر دباؤ ڈال کر سیاسی انجینیئرنگ کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔‘
پی ٹی آئی نے کہاکہ ملک کی سالمیت کو نقصان وہ پہنچاتے ہیں جو ملکی اداروں کو سیاسی لاٹھی بنا کر مخالفین پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ الزام تراشی، جعلی مقدمات، میڈیا ٹرائل اور دھمکیوں سے نہ سچ چھپتا ہے نہ عمران خان کی عوامی مقبولیت کم ہوتی ہے۔ قوم ایسے کرداروں کے جھوٹ ایک کان سے سنتی ہے اور دوسرے سے اُڑا دیتی ہے۔
بیان کے مطابق عمران خان نے جس جرات اور حوصلے کے ساتھ جیل کاٹی ہے اور کاٹ رہے ہیں، اُس کا عشرِ عشیر بھی نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز یا آصف زرداری برداشت نہ کرسکے۔
’زرداری کے جیل کے دنوں کا بڑا حصہ اسپتالوں میں گزرا، نواز شریف ڈیل کرکے ایک بار سعودی عرب اور پھر لندن فرار ہوئے، اور شہباز شریف ہر سخت موڑ پر درِ غلامی تلاش کرتے ملے یا ہسپتالوں میں۔ عمران خان جیسے بہادر، ثابت قدم، سچے اور قدآور رہنما کا ان بھگوڑوں سے کوئی موازنہ نہیں۔‘
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کے فیصلے سمجھ سے بالاتر، پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی قابل مذمت ہے، ایم کیو ایم
پی ٹی آئی نے کہاکہ عمران خان پاکستان کی امید، عوامی شعور کا چہرہ اور حقیقی سیاسی استحکام کی علامت ہیں۔ اگر سازشوں کا سلسلہ جاری ہے تو وہ ملک کے خلاف نہیں بلکہ عمران خان کے خلاف ہے جن کا واحد جرم یہ ہے کہ وہ عوام کے محبوب رہنما ہیں اور حقیقی آزادی کی سیاست کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی حنیف عباسی ردعمل سیاسی انجینیئرنگ وزیر ریلوے وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی حنیف عباسی سیاسی انجینیئرنگ وزیر ریلوے وی نیوز سیاسی انجینیئرنگ حنیف عباسی پی ٹی ا ئی کے ساتھ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔