ٹی 20 ورلڈ کپ، یو اے ای نے عمدہ کھیل کی ٹھان لی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
دبئی:
یو اے ای نے ورلڈکپ میں عمدہ کھیل پیش کرنے کی ٹھان لی، کپتان محمد وسیم نے کہا کہ ابھی ہم حریفوں کا نہیں سوچ رہے بلکہ تمام تر توجہ اپنی کارکردگی پر ہے ، میچ والے دن اگر اچھی کرکٹ کھیلی تو کسی کو بھی ہرا سکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ فروری،مارچ میں بھارت اور سری لنکا میں ہوگا، یو اے ای نے کوالیفائر میں عمدہ کھیل کی بدولت رسائی پائی، ٹیم گروپ ڈی میں نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، افغانستان اور کینیڈا کے ساتھ شامل ہے۔
دبئی میں نمائندہ ‘‘ایکسپریس’’ کو خصوصی انٹرویو میں یو اے ای کے کپتان محمد وسیم نے کہا کہ ورلڈکپ میں شرکت کی بہت خوشی ہے،ہماری ٹیم کیلیے رواں برس بہت اچھا گزرا،ہم نے ایشیا کپ میں حصہ لیا اور اب ورلڈکپ کے لیے بھی کوالیفائی کر چکے ہیں۔
بڑی اسٹیج پر اچھی کارکردگی کیلیے ہم سخت محنت کر رہے ہیں، ابھی ہم حریفوں کا نہیں سوچ رہے بلکہ تمام تر توجہ اپنی کارکردگی پر ہے ،ہم اپنی محنت کر رہے ہیں تاکہ جس کے بھی خلاف کھیلیں اچھا پرفارم کر سکیں، میچ والے دن اگر اچھی کرکٹ کھیلیں گے تو کسی کو بھی ہرا سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہماری ٹیم اس وقت خاصی متوازن ہے، تجربہ کار کرکٹرز کے ساتھ باصلاحیت نوجوان بھی موجود ہیں، ہم اچھے کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔
میں کسی ایک کھلاڑی کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ فرد واحد کی وجہ سے کوئی ٹیم نہیں جیتا کرتی،ہم ٹیم بن کر پرفارم کریں گے تو زیادہ اچھا رہے گا،مجھے پورا یقین ہے کہ یو اے ای بطور ٹیم اچھا پرفارم کرے گی۔
محمد وسیم نے اپنی انفرادی کارکردگی پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کوشش کروں گا کہ جس طرح بیٹنگ اور ٹیم کی قیادت کر رہا ہوں یہ سلسلہ برقرار رکھوں۔
ٹیسٹ اقوام کے خلاف اچھی کارکردگی اور انھیں ہرانے کیلیے ہم محنت کر رہے ہیں لیکن یہ آسان کام نہیں ہے، ہم نیوزی لینڈ،بنگلہ دیش اور افغانستان کو ہرا چکے ہیں ، آپ دیکھیں گے کہ جن ٹیموں کو ہم ٹف ٹائم دینے کے باوجود زیر نہیں کرپاتے ایک دن انھیں بھی ہراتے نظر آئیں گے۔
کسی مخصوص ٹیم کے حوالے سے ہم نہیں سوچ رہے،ویسے بھی ورلڈکپ میں پاکستان اور بھارت ہمارے گروپ میں نہیں ہیں ہم اپنی محنت کریں گے اور جس کے خلاف کھیلے اسے زیر کرنے کی کوشش ہو گی۔
محمد وسیم نے کہا کہ ٹیسٹ ممالک کیخلاف کھیلنا اچھی بات ہے،جیسے جیسے ہم ان سے میچز کھیلیں گے ہماری کارکردگی بہتر ہو گی،ابھی ہم اگر انھیں ٹف ٹائم دیتے ہیں تو جلد ہرانا بھی شروع کر دیں گے۔
ایک سوال پر وسیم نے کہا کہ اس مقام تک پہنچنے کیلیے میں نے بہت محنت کی ہے، کرکٹ پاکستان میں شروع کی پھر یو اے ای آ کر کیریئر بنانا شروع کیا،میرے ملک اور بورڈ نے میری بہت مدد کی۔
مجھے یو اے ای نے بھی بہت عزت دی، مجھے اسی کی وجہ سے اتنا نام ملا،میں اس پر بہت خوش ہوں۔
پاکستان میں ہونے پر قومی ٹیم کی نمائندگی کا موقع ملنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ میں اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن جیسی کرکٹ میں ابھی یہاں کھیل رہا ہوں ویسی کھیلتا تو شاید موقع مل جاتا۔
ایک سوال پر انھوں نے پہلے تو مذاق میں خود کو اپنا پسندیدہ کرکٹر قرار دیا،پھر کہا کہ کیون پولارڈ سے میں نے بہت کچھ سیکھا،نکولس پوران بھی بہت اچھے کرکٹر ہیں البتہ اگر مجموعی طور پر بتاؤں تو اے بی ڈی ویلیئرز میرے پسندیدہ کھلاڑی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ فخر زمان سے میری اچھی بات چیت ہے،وہ بہت اچھے انسان اور کھلاڑی ہیں،فخر اپنی جارحانہ بیٹنگ کے رنگ دکھاتے ہیں،جب وہ اسکور بنائیں تو بہت اچھا لگتا ہے۔
محمد وسیم نے آئی ایل ٹی ٹوئنٹی کو بہترین ٹورنامنٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کرکٹ کا معیار بہت بلند ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وسیم نے کہا کہ یو اے ای نے انھوں نے
پڑھیں:
جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد
کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔
اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔
ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔
اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔
بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔