اب کوئی بات نئی بات نہیں
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈی جی آئی ایس پی آر بہت غصے میں تھے۔ ممکن ہے ان کا غصہ بجا ہو۔ سنا تھا کہ جوش میں ہوش کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے لیکن اب آنکھوں نے جو کچھ دیکھا اسے دیکھ کر ایسا ہی لگا۔ اللہ کرے کہ دامن ہوش دوبارہ تھام لیا جائے کیونکہ اب اگر ملک سنور جانے کی کوئی آخری امید نظر آتی ہے تو وہ اسی ادارے کی ہوشمندی میں ہی مضمر ہے کیونکہ اب حالات اتنی گمبھیر صورت اختیار کر چکے ہیں کہ ان کو قابو میں رکھنا اور اچھی صورت حالات کی جانب لوٹانا سیاسی قائدین اور پارٹیوں کے بس میں بھی نہیں رہا۔ میں اپنی اصل بات کی جانب جانے سے پہلے یہ بات بہت ضروری سمجھتا ہوں کہ ریاست پاکستان میں رہتے ہوئے بھی آج تک میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جب ڈی جی آئی ایس پی آر لفظ ’’ریاست‘‘ استعمال کرتے ہیں تو وہ ریاست کس کو کہہ رہے ہوتے ہیں۔ میں سیاست کا ایک ادنیٰ سا طالب ِ علم ہوں اور میں نے ریاست کی تعریف میں جو پڑھا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کی بیان کردہ ’’ریاست‘‘ کی شکل اس میں مجھے کہیں بھی دکھائی نہیں دیتی۔ مختصراً ریا ست کے لیے جن تین بنیادی باتوں کو لازمی قرار دیا گیا ہے اس کی اول شرط خطہ زمین کا ہونا ہے، دوسری شرط معقول آبادی ہے اور تیسری شرط خود مختار حکومت کا ہونا۔ یہ تین چیزیں اگر مربوط نہیں تو اسے ریاست کہا ہی نہیں جا سکتا۔
ہم حالیہ دور کو بھی سامنے رکھیں تو فلسطین ایک خطہ زمین کا نام ہے اور وہاں انسانوں کی ایک بڑی آبادی بھی موجود ہے لیکن کیونکہ وہاں خود مختار حکومت نام کی کوئی چیز نہیں اس لیے اسے آج تک ایک آزاد و خود مختار ریاست کا درجہ حاصل نہیں ہو سکا۔ ایک اور مثال بنگلا دیش کی ہے کہ وہ جب پاکستان کے ساتھ تو اس وقت بھی وہ ایک خطہ زمین رکھتا تھا، آبادی کے لحاظ سے بھی اس وقت اس کی آبادی کروڑوں میں تھی لیکن وہ ریاست اس لیے نہیں تھا کہ اس کی اپنی کوئی خود مختار حکومت نہیں تھی۔ جب بنگال میں ایک خود مختار حکومت کا وجود عمل میں آگیا تو وہ ایک ریاست کی شکل اختیار کر گیا۔ باقی کسی ملک میں فوج کا ہونا، پولیس کا ہونا، مقننہ کا ہونا، عدالتوں کا ہونا وغیرہ جو کچھ بھی ہے، وہ تو سب کی سب ریاست بن جانے کے بعد کی باتیں ہیں اور ہر نو زائدہ ملک اپنے باقی ادارے اور محکمے ریاست بن جانے کے بعد ہی قائم کرتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جب بھی لفظ ’’ریاست‘‘ کا ذکر آتا ہے تو صاف ایسا دکھائی دے رہا ہوتا ہے کہ ہماری فوج خود ایک ’’ریاست‘‘ ہے اور جب بھی کوئی ایسی تحریک چلتی ہے یا ملک کے کسی گوشے سے اس پر کوئی تنقید کر رہا ہوتا ہے، ریاست (فوج) اپنے آپ کو حرکت میں لانا فرض تصور کرنے لگتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس اس لیے سمجھ سے باہر ہے کہ اس قسم کی کانفرنس ان کی جانب سے کیے جانے کے بجائے حکومت کی جانب سے ہونی چاہیے تھی۔ اگر کوئی فرد یا جماعت ملک کے خلاف بات کر رہی ہو تو حکومت ِ وقت کا فرض ہوتا ہے کہ فرد یا جماعت کے خلاف قانونی کارروائی کرے اور ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے پی ٹی آئی یا اس کے سر براہ کے خلاف لگائے گئے الزامات کوئی نئے نہیں۔ پاکستان کا ماضی ایسی ہی الزام تراشیوں سے بھرا پڑا ہے۔ ایوب خان کے دور میں قائد اعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف بھی ایسے ہی الزامات لگائے گئے تھے۔ یہی نہیں، ان کا ساتھ دینے والے ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والوں کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھارتی ایجنٹ بنانے کی منصوبہ بندی کر دی گئی تھی جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔
پاچا خان اور ان کی جماعت بھی اس کی لپیٹ میں آئی۔ جماعت اسلامی پر بھی امریکی ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو بھی نہ صرف پاکستان کے لیے خطرہ قرار دیا گیا بلکہ اسے پھانسی تک دیدی گئی۔ اسٹیبلشمنٹ نے نہ نواز شریف کو چھوڑا اور نہ بینظیر بھٹو کو۔ آصف زرداری کو آٹھ سال قید کاٹنا پڑی اور الطاف حسین اور ان کی پارٹی کو بھی ’’اسی ریاست‘‘ نے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ گویا یہ ادارہ، بزعم ِ خود ایک ایسی سانس لیتی ریاست بن چکا ہے جو جب اور جس کو چاہے غدارِ اعظم بنادے اور پھر جب چاہے اسے سب سے زیادہ وفادارِ ریاست قرار دے کر اقتدار کی کرسی پر براجمان کر دے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب! اگر آپ کی ساری پریس کانفرنس کا نچوڑ نکالا جائے تو پھر پاکستان میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں جو ’’پاکستانی‘‘ قرار دیا جا سکے۔ کے پی کے، سندھ اور بلوچستان پہلے ہی سیکورٹی رسک تھے اور ان کے خلاف طاقت کا استعمال روا تھا کہ اب پنجاب کو بھی آپ اپنے خلاف کرتے جا رہے ہیں۔ آزاد و جمہوری ممالک جس میں برطانیہ سر ِ فہرست ہے، وہاں اپنے اور بیگانے کا فرق معلوم کرنے کا طریقۂ کار الیکشن کے ساتھ ساتھ ’’ریفرنڈم‘‘ کا بھی ہے۔ کچھ ہی عرصے قبل برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ کی علٰیحدگی پسند تحریک کی آواز پر وہاں ریفرنڈم کرایا گیا تھا۔ اگر آپ جمہوریت کو اپنا دین و ایمان سمجھتے ہیں تو کیوں نہ آپ عوام اور اپنے درمیان ایک ریفرنڈم کرالیں کہ کون پاکستان کا ہمدرد ہے اور کس کے تجربے اور پالیسیاں پاکستان کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہیں۔ پاکستان کو اگر واقعی پاکستان بنانا ہے تو اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ پاکستانی عوام اور آپ کے درمیان اس ریفرنڈم کا انعقاد ہو جانا چاہیے۔ رہی بات آپ کے الزامات کی تو میں صرف اتنا ہی عرض کر سکتا ہوں کہ
اب کوئی بات نئی بات نہیں
اب کسی بات پہ چونکا نہ کرو
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر ا ئی ایس پی ا ر کی خود مختار حکومت کی جانب سے کے خلاف کا ہونا کو بھی ہے اور
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔