صوبائی حکومتیں وسائل پر قابض‘ ادارہ جاتی کھیل بحال کیے جائیں:حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
لاہور(خبرنگار خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مقامی حکومتوں کا مؤثر نظام نہ ہونے سے صحت ، تعلیم اور شعبہ کھیل بری طرح متاثر ہیں۔ صوبائی حکومتیں وسائل پر قابض ہیں ، نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع نہیں مل رہے۔ جماعت اسلامی نے الخدمت فاؤنڈیشن کے ذریعے نوجوان نسل کو تعلیم ، ٹیکنالوجی اور کھیل میں آگے بڑھانے کیلئے ایک مربوط زی کنیکٹ پروگرام کا آغاز کیا، نظام کی بہتری کیلئے جدوجہد جاری رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے الخدمت فائونڈیشن کے زیراہتمام لاہور میں پہلے، منفرد آرٹیفیشل گراس سے تیار کردہ سپورٹس اریناکی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے کیا۔ نائب صدر الخدمت ڈاکٹر مشتاق احمدمانگٹ نے بھی خطاب کیا۔ الخدمت وسطی پنجاب کے صدراکرام الحق سبحانی بھی موجود تھے۔امیر جماعت اسلامی نے کہاایک سیاستدان نے ماضی میں ادارہ جاتی کھیلوں کو ختم کردیا جس سے بڑا نقصان ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی حکومتوں کا موثر نظام قائم ہو، ادارہ جاتی کھیلوں کو بحال کیا جائے تاکہ کھلاڑیوں کو روزگار ملے اور وہ کھیل پر بھی توجہ دے سکیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا الخدمت فاؤنڈیشن کے ذریعے بنو قابل کا آغاز کیا، 11 لاکھ بچوں اور بچیوں کی رجسٹریشن ہوچکی ہے ‘ہمارے زی کنیکٹ پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو تعلیم اور ٹیکنالوجی کی تربیت دی جارہی ،مستقبل میںپیشہ وارانہ مہارت اور چھوٹے کاروبار کیلئے بلاسود قرضے بھی دیئے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔