دشمن نے دوبارہ حملہ کیا تو پاک فضائیہ کو پہلے سے زیادہ مضبوط پائے گا‘ ائرچیف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251203-01-19
رسالپور (مانیٹرنگ ڈیسک) سربراہ پاک فضائیہ ائر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا ہے کہ ہماری قومی خودمختاری کو دوبارہ چیلنج کیا گیا تو دشمن پاک فضائیہ کو پہلے سے زیادہ مضبوط پائے گا۔ پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان، رسالپور کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے سربراہ پاک فضائیہ نے کہا کہ سعودی کیڈٹس کی موجودگی دونوں عظیم ممالک اور ان کی مسلح افواج کے درمیان مضبوط دوستی اور تعاون کی علامت ہے، آپ کو مادرِ وطن کی فضائی سرحدوں کے دفاع کے مقدس مقصد کا امین بنایا گیا ہے، پوری قوم کی امیدیں آپ کے نوجوان کندھوں پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم اور پاکستان کی مسلح افواج نے اتحاد کی شاندار مثال پیش کرتے ہوئے دشمن کو اْس کی عددی برتری کے باوجود شکست سے دوچار کیا، معرکہ حق میں حاصل ہوئی فیصلہ کن کامیابی قومی طاقت کے تمام عناصر کے متحدہ کردار اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں کا نتیجہ تھی، ، پاک فضائیہ نے کم تعداد میں لڑنے کی روایتی میراث کو برقرار رکھتے ہوئے دشمن کے سب سے جدید طیارے مار گرائے، ہمارے اقدامات اور آپریشنز مؤثر ہونے کے ساتھ ساتھ متوازن اور موزوں بھی تھے، ہمارا مقصد تھا کہ عزت کے ساتھ امن قائم ہو۔ائر چیف مارشل نے کہا کہ دنیا نے اس سے قبل کبھی فضائی طاقت کے اتنے جرأت مندانہ استعمال کو نہیں دیکھا، جو مخصوص ٹیکنالوجیز کے ساتھ مربوط تھا، حالیہ تصادم نے جدید دور کی فضائی لڑائی کے لیے ایک نصابی مثال قائم کردی، 2025ء میں ایک بار پھر پاک فضائیہ نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور تمام شعبوں میں برتری کو ثابت کیا۔ سربراہ پاک فضائیہ کا کہنا تھا کہ پاک فضائیہ نے جدت طرازی کی ایک نہایت جارحانہ اور تخلیقی حکمت عملی کو اپنایا، پاک فضائیہ نے اپنے اسمارٹ انڈکشن پروگرام کے ذریعے متعدد جدید لڑاکا طیاروں اور ٹیکنالوجیز کو ریکارڈ وقت میں شامل کیا۔ ان کا کہنا تھاکہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور سب کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے، اگر ہماری قومی خودمختاری کو دوبارہ چیلنج کیا گیا، تو ہمارا دشمن پاک فضائیہ کو کہیں زیادہ مضبوط، اور بہتر تیار پائے گا۔ سربراہ پاک فضائیہ نے کہا کہ پاکستان کی قومی قیادت اور افواج، ہماری بہادر اور پْرعزم قوم کے ساتھ، ملک کی نظریاتی، جغرافیائی و فضائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر قیمت چکانے کے لیے پرْعزم ہیں۔تقریب میں پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے اور شیر دل ایروبیٹکس ٹیم فلائے پاسٹ کا مظاہرہ کیا۔پی اے ایف اکیڈمی رسالپور سے مجموعی طور پر 166 کیڈٹس پاس آؤٹ ہوئے ان میں پاک فضائیہ کے 136 اور سعودی فضائیہ کے 20 کیڈٹس شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سربراہ پاک فضائیہ پاک فضائیہ نے نے کہا کہ کے ساتھ
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔