پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان تین معاہدوں پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان روڈز اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے حوالے سے تین معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ان معاہدوں میں ایم ایل ون کراچی روہڑی سیکشن کے لئے پراجیکٹ ریڈینینس فنانسنگ ، کوئٹہ بس ریپڈ ٹرانزٹ کے لئے پراجیکٹ ریڈینینس فنانسنگ اوربلوچستان واٹر ریسورسز ڈویلپمنٹ سیکٹر منصوبے کے لئے اضافی فنانسنگ شامل ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے کنٹری ڈائریکٹر ایما فین اور سیکرٹری اقتصادی امور اور سیکرٹری ریلوے نے آج اسلام آباد میں معاہدوں پر دستخط کئے۔اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر نے ان منصوبوں کے حوالے سے پختہ عزم پر پاکستانی حکومت کی تعریف کی اور پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اشتہار.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔