پاکستان اور کرغزستان کے درمیان توانائی اور تجارت میں تعاون کے 15 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور کرغزستان کے درمیان توانائی، تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون کے 15 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوگئے۔وزیر اعظم ہاؤس میں کرغزستان کے صدر صادر جپاروف کا شاندار استقبال اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
کرغزستان کے صدر نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی شرکت کی۔وزیر اعظم شہباز شریف نے روابط کے فروغ کے لیے پاکستان کی ’’وژن سینٹرل ایشیا‘‘ پالیسی کا عزم دُہرایا۔دونوں رہنماؤں نے تعلقات کے فروغ اور توسیع کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے پر اتفاق کیا اور روڈ کوریڈور فعال ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
بھارت میں رسگلے نہ ملنے پر شادی کی تقریب میدان جنگ بن گئی
اس کےعلاوہ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ تنازعات کو بین الاقوامی قانون اور یو این چارٹر کے مطابق پُرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے، اس موقع پر پُرامن افغانستان اور افغانوں کے پائیدار مستقبل پر بھی گفتگو ہوئی۔صدر کرغزستان نے پاکستان کو قابلِ اعتماد دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کاسا 1000 منصوبہ ہے ، دونوں ملک دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں ۔بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان توانائی، تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون کے 15 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔
دکانداروں نے اتنی خاطر تواضع کی کہ میں حیران رہ گیا، مجھے بھارت میں پاکستان کے بارے میں بتا کر جس طرح خوف زدہ کیا گیا تھا وہ سب غلط نکلا
واضح رہے کہ گزشتہ روز کرغزستان کے صدر صادر جپاروف 2 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے، صدرآصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے صدر کا استقبال کیا تھا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کرغزستان کے صدر
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔