اسلام آباد(نیوزڈیسک) سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے سے کام نہیں چلے گا، کچھ فارم 47 والے چاہتے ہیں ملک کے حالات اچھے نہ ہوں، چیئرمین

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے سوال کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سرٹیفیکٹ جاری نہیں ہوا تو پی ٹی آئی پر کیسے پابندی لگائی گئی۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف پر پابندی کے بارے میں ابھی تک الیکشن کمیشن نے ہمیں کوئی سرٹیفکیٹ نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ جب کوئی سرٹیفیکٹ جاری نہیں ہوا تو پھر الیکشن کمیشن نے کیسے پی ٹی آئی پر پابندی عائد کردی۔

بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ پی ٹی آئی بلوچستان نے لوکل گورنمنٹ انتخابات کے لیے اپنا کوئی امیدوار میدان میں نہیں اتارا جبکہ ہم نے الیکشنز میں سنی اتحاد کونسل کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگانے سے کام نہیں چلے گا، دو سال بعد بھی ہم اگر نو مئی پر کھڑے ہین تو یہ ملک کے لیے بد قسمتی کی بات ہے کیونکہ 25 کروڑ عوام ایوان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور انہیں بہتری کی امید بھی ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی ملاقات پر کوئی بھی سیاست نہیں ہونی چاہیے، اداروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تناؤ کم کرنے کی کوشش جاری رہنی چاہیے، سیاسی اور جمہوری قوتیں بات چیت کرتی ہیں تو حالات بہتر ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپ نے عالمی جنگیں لڑیں ،مگر آج یورپ میں ایک ہی کرنسی اور پاسپورٹ ہے، مگر کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ پاکستان کے حالات بہتر ہوں، کچھ فارم 47 والے بھی نہیں چاہتے کہ حالات بہتری کی طرف جائیں۔

بیسٹر گوہر نے کہا کہ بہت وقت سے ایک دوسرے پر الزام لگائے جارہے ہیں اب اس سلسلے کو بند ہونا چاہیے اور سیاست میں ہمیشہ دروازے کھے رکھنے چاہیئیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر نے الیکشن کمیشن پی ٹی ا ئی پر پابندی نے کہا کہ

پڑھیں:

لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی

فائل فوٹو

ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نےلاہور میں بلدیاتی الیکشن کی نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی ہے، جن میں 159 یونین کونسلز کا اضافہ کیا گیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں، 2015 کے بلدیاتی الیکشن میں لاہور میں 274 یونین کونسلز تھیں۔

ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن لاہور کی ابتدائی فہرست کے مطابق راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسل قائم کی گئی ہیں۔

ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40 اور صدر کینٹ میں 29، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونین کونسل بنائی گئی ہیں۔

لاہور کے شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائر کرسکتے ہیں، حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10 اگست کو جاری ہوگی۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت