عمران خان کیخلاف غداری کا مقدمہ درج ہوسکتا ہے ‘رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251209-01-8
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غداری کے مقدمے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا، ان کا انجام ایم کیو ایم اور بانی ایم کیو ایم سے مختلف نہیں ہوگا۔رانا ثنا اللہ نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں بڑا دو ٹوک پیغام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو واضح پیغام دیا گیا، اس کومذاق سمجھیں گے تو نقصان اٹھائیں گے، حکومت نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کی تائید کی ہے۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی اپنی بہن سے ملاقات کے بعد جو ٹوئٹ آیا اور جو الفاظ استعمال ہوئے، اس کے بعد فیصلہ ہوگیا، عمران خان کے خلاف غداری کے مقدمے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ جلسے میں جو باتیں کی گئیں ان کو پیغام مل جائے گا اور بڑی قوت سے ملے گا، یہ لوگ اس قسم کی حرکتیں کر کے اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں،آج ایم کیو ایم لندن اوربانی ایم کیو ایم کدھر ہیں۔انہوں نے کہا کہ عنقریب پاکستان تحریک انصاف اور اڈیالہ تحریک انصاف ہونے والا معاملہ نظر آرہا ہے، پی ٹی آئی کی اکثریت اس پاگل پن کا حصہ نہیں بنے گی۔اس کے علاوہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جعفرایکسپریس پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کے بیانیے کو بھارت افغانستان اور پی ٹی آئی کے میڈیا نے ایک ساتھ اٹھایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رانا ثنا اللہ ایم کیو ایم پی ٹی ا ئی کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔