حکومت کاعمران خان کو اڈیالہ جیل سے منتقل کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے منتقل کرنے پر غور شروع کردیا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ معاملات اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں ، پی ٹی آئی ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، احتجاج کے نام پر فتنہ فساد کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس حوالے سے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں قیدی کو اڈیالہ سے منتقل کردیا جائے اور حکومت بھی سنجیدگی سے اس پر غور کررہی ہے۔
اختیار ولی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کا منشیات کے اسمگلروں سے گٹھ جوڑ ہے ، وزیراعلیٰ کی پرفارمنس زیرو نہیں مائنس ہے۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے پی کے رشتے دار منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں اور یہ سرپرستی کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز عمران خان سے ملاقات نہ ہونےپر ان کی بہنوں نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیا تھا، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا جب کہ پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔