حکومت کاعمران خان کو اڈیالہ جیل سے منتقل کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے منتقل کرنے پر غور شروع کردیا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ معاملات اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں ، پی ٹی آئی ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، احتجاج کے نام پر فتنہ فساد کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس حوالے سے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں قیدی کو اڈیالہ سے منتقل کردیا جائے اور حکومت بھی سنجیدگی سے اس پر غور کررہی ہے۔
اختیار ولی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کا منشیات کے اسمگلروں سے گٹھ جوڑ ہے ، وزیراعلیٰ کی پرفارمنس زیرو نہیں مائنس ہے۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے پی کے رشتے دار منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں اور یہ سرپرستی کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز عمران خان سے ملاقات نہ ہونےپر ان کی بہنوں نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیا تھا، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا جب کہ پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
فائل فوٹواڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی۔
جیل ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی، جو 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق دوران ملاقات عمران خان اور بشریٰ بی بی نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی۔
دوسری طرف اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی سے ملاقات کے دن کے موقع پر کسی وکیل اور فیملی ممبر کی ملاقات نہ ہوسکی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی بانی پی ٹی آئی سے اظہار یکجہتی کیلئے اڈیالہ جیل آئے تھے۔
بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمی خان اڈیالہ جیل تو پہنچیں لیکن پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہ دی۔