وزیراعلیٰ کے پی کے رشتہ دار منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں: اختیار ولی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
فائل فوٹ
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، احتجاج کے نام پر فتنہ فساد کی کوشش کی جارہی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ چاہتے ہیں قیدی کو اڈیالہ سے منتقل کر دیا جائے، حکومت بھی اس پر غور کر رہی ہے۔
اختیار ولی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت اور دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ ہے، اسمگلروں نے تحریک انصاف کی چھتری تلے پناہ لے رکھی ہے۔وزیراعلیٰ کے پی کے رشتہ دار منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں، یہ سرپرستی کرتے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن خیبر پختون خوا اختیار ولی خان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے مطالبات غیر منطقی اور بلاجواز ہیں، پی ٹی آئی کا کوئی مطالبہ قابل عمل نہیں، مذاکرات کرنا بھی چاہیں تو کس بات پر کریں، لشکر کے ذریعے بانیٔ پی ٹی آئی کو رہا نہیں کروایا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند کیا، یہ لوگ مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ ملکی وقار اور ترقی پر آئے روز حملہ آور ہو رہے ہیں۔
پی ٹی آئی ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، خیبر پختونخوا کے دو وزراء کی گاڑیاں منشیات کے کیسز میں تھانوں میں بند ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اختیار ولی پی ٹی آئی
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔