دنیا امن و استحکام کیلئے انسانی حقوق کا احترام کرے، ڈاکٹر طاہر القادری
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
تحریک منہاج القرآن کے بانی سرپرست کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں جنگوں، انتہاپسندی، ظلم، ناانصافی اور ریاستی جبر نے کروڑوں انسانوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہے، انسانی حقوق کا دن ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ انسانیت کا احترام محض نعرہ نہیں بلکہ عالمی، اجتماعی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرستِ اعلیٰ ڈاکٹر طاہرالقادری نے ’’انسانی حقوق کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دنیا امن و استحکام کیلئے انسانی حقوق کا احترام کرے، دین اسلام انسانی جان کی حرمت اور تقدس کو وہ بلند مقام دیتا ہے جس کی مثال کسی اور تہذیب یا مذہب میں نہیں ملتی، اسلام نےایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ انسانی حقوق کا تصور جدید دور کی پیداوار نہیں بلکہ قرآن و سنت میں اس کی بنیادیں صدیوں پہلے رکھ دی گئی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ دین اسلام کی تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ انسانی حقوق کا احترام، جان و مال کا تحفظ اور انصاف کی فراہمی کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میثاق مدینہ کے آرٹیکلز کا غالب حصہ انسان اور انسانی حقوق کے تحفظ اور وقار کے بارے میں ہے۔
ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ دنیا بھر میں جنگوں، انتہاپسندی، ظلم، ناانصافی اور ریاستی جبر نے کروڑوں انسانوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہے، انسانی حقوق کا دن ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ انسانیت کا احترام محض نعرہ نہیں بلکہ عالمی، اجتماعی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق محض ایک بین الاقوامی اصول نہیں، بلکہ یہ انسانیت کی وہ مشترکہ زبان ہے جو دنیا کو امن، انصاف اور مساوات کی طرف لے جاتی ہے، پیغمبر اسلام نے ایک انسان کی حرمت اور وقار کو اللہ کے مقدس گھر کعبۃ اللہ کی حرمت سے زیادہ محترم قرار دے کر انسانی حقوق کی ضرورت و اہمیت اور ناگزیریت کو روایتی بحث و تمحیص سے بالا تر بنا دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انسانی حقوق کا کا احترام کہ انسانی نے کہا
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔