ڈاکٹر فرزانہ باری کا ایمان مزاری اور ہادی کے خلاف جاری ٹرائل پر خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز کے ساتھ ڈاکٹر فرزانہ باری کا کہنا ہے کہ جج افضل مجوکہ کی عدالت میں جاری انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری کے خلاف کیس تیزی سے چلایا جا رہا ہے، ایک شرم ناک ٹرائل چلایا جا رہا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ فوری طور پر اس ٹرائل کو روکنا چاہیے اور ملزمان کو جائز حقوق ملنے چاہییں۔ متعلقہ فائیلیںڈاکٹر فرزانہ باری پاکستان میں حقوقِ نسواں اور سماجی انصاف کی ایک نمایاں اور جرات مند آواز ہیں۔ وہ اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی میں جینڈر سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کی بانی ڈائریکٹر اور سابق پروفیسر کی حیثیت سے علمی اور تحقیقی دنیا میں ایک مضبوط مقام رکھتی ہیں۔ تعلیم اور تحقیق کے ذریعے انہوں نے نوجوانوں کی ایک نسل کی تربیت کی ہے اور ملک میں صنفی مطالعہ کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کا تحقیقی کام ہمیشہ پاکستان کے سماجی، سیاسی اور معاشی ڈھانچے میں خواتین کے کردار اور ان کے چیلنجز پر مرکوز رہا ہے۔ ڈاکٹر باری نے نہ صرف تعلیمی میدان میں اپنا لوہا منوایا ہے، بلکہ وہ عملی طور پر بھی کئی دہائیوں سے ملک کی مختلف سول سوسائٹی تنظیموں کے ساتھ مل کر خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے فعال رہی ہیں۔ انہوں نے پاکستانی معاشرے میں گہرے رچے بسے خواتین کے خلاف تشدد، غیرت کے نام پر قتل، جبری شادیوں، اور صنفی امتیاز پر مبنی قوانین کے خلاف توانا آواز اٹھائی ہے۔ وہ میڈیا پر اور عوامی پلیٹ فارمز پر اکثر نظر آتی ہیں جہاں وہ سیاسی حکمرانی اور جمہوریت کے اندر خواتین کی شمولیت کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔ ان کی یہ جدوجہد انہیں ایک ایسی شخصیت بناتی ہے جو صرف اداروں کے اندر تبدیلی کی بات نہیں کرتی بلکہ سڑکوں پر اور قانون سازی کے ایوانوں میں بھی صنفی مساوات کے لیے لڑتی ہے۔ اسلام ٹائمز نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر نامدار ہادی علی چھٹہ کیخلاف مقدمات پر ایک خصوصی انٹرویو کیا ہے جو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔