ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ کیخلاف بوگس مقدمات، غیر منصفانہ ہیں، بی این پی
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
اپنے مرکزی بیان میں بی این پی نے کہا کہ ایمان اور ہادی چٹھہ کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے آواز بلند کرنے کیساتھ ساتھ بلوچ مظلوم عوام کا ہر مشکل میں ساتھ دیا۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان نیشنل پارٹی نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے کیس کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپنے مرکزی بیان میں بی این پی نے کہا کہ انہیں اپنی صفائی کا موقع نہ دیا جانا، انصاف کے موثر فراہمی کے دعوؤں کی نفی ہے۔ جس پر اہل بلوچستان میں تشویش پائی جاتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایمان اور ہادی چٹھہ کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ مظلوم عوام کا ہر مشکل میں ساتھ دیا اور کسی بھی مصلحت پسندی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ بیان میں سریاب کلی قمبرانی سے ساتک قمبرانی، بسم اللہ قمبرانی، معصوم قمبرانی، حمل قمبرانی، حیربیار قمبرانی، آفتاب لہڑی، بیبرگ کو لاپتہ کرنے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر کوئی کسی جرم میں ملوث ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کرکے ٹرائل کیا جائے۔ لاپتہ کرنے کا عمل متاثرہ خاندان کو اذیت، کرب سے گزارتا ہے، جو کہ سراسر انسانی حقوق کی پامالی ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچ اسی سرزمین کے باسی ہیں، تو ان کے ساتھ آئین و قانون کے مطابق رویہ اپنایا جائے اور مسائل کو طاقت کی بجائے مذاکرات سے حل کئے جائیں۔ اربوں روپے امن و امان پر خرچ کرنے کے باوجود بلوچستان کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر یہی اربوں روپے حقیقی طور پر تعلیم، روزگار کے حصول سمیت دیگر امور پر شفافیت کے ساتھ خرچ کئے جاتے اور مذاکرات کی راہ اپنائی جاتی تو آج بلوچستان کے حالات پوائنٹ آف ریٹرن پر نہیں ہوتے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر قائم بوگس مقدمے میں ٹرائل کا حق مکمل دیا جائے اور ساتک قمبرانی سمیت دیگر لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور ہادی چٹھہ
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎