ہمیں ریاست کو کمزور کرنیوالے رویوں پر نظرثانی کرنی چاہیے، سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
پریس کانفرنس کے موقع پر سرفراز بگٹی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے صوبے کو امن اور ترقی کی ضرورت ہے۔ فورسز کیخلاف بات کرنا اور ہر وقت احتجاج کرنا مناسب نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں 100 کے قریب دہشتگردوں نے ریاست کے سامنے سرنڈر کیا اور یہ خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچوں کو قوم پرستی کے نام پر لاحاصل جنگ میں ڈالا گیا ہے، آپ یہ جنگ تشدد کے ذریعے حاصل نہیں کرسکتے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے یہ وڈیرا اور ان کے ساتھی 2010 میں سرنڈر ہوئے تھے، مگر 2018 میں دوبارہ پہاڑوں پر چلے گئے تھے، اب جب وہ دوبارہ آئے ہیں تو ہم نے انہیں دوبارہ گلے لگایا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سال بلوچستان میں 900 واقعات ہوئے، جن میں 6 افسران سمیت 205 سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور 280 سویلین جانبحق ہوئے، آپریشنز میں 760 دہشتگرد بھی ہلاک کیے گئے۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ 8 سے 10 دہشتگرد افغان تھے، جن کی لاشیں آج بھی یہاں پڑی ہیں۔ افغانستان میں پنپنے والی دہشتگردی پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچوں کو قوم پرستی کے نام پر لاحاصل جنگ میں ڈالا گیا ہے، آپ یہ جنگ تشدد کے ذریعے حاصل نہیں کرسکتے۔ بیانیوں کا مقبول ہونا اہم نہیں، ہمیں حق پر کھڑا ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں لوگ سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں، ہمیں ریاست کو کمزور کرنے والے رویوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ میرے دو چچازاد بھائی پاک فوج میں ہیں۔ ڈاکٹر اللہ نظر کا بیٹا فرانس میں پڑھ رہا ہے، اور دوسرے مقبول لیڈر کا بیٹا لندن میں ہے، لیکن ہمارے جو بیٹے یہاں ہیں اور قربانیاں دے رہے ہیں، کیا ہمیں ان کے خلاف پراپیگنڈا کرنا چاہیے؟
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ جو مسلح نوجوان واپس آنا چاہتے ہیں، ان کے لیے ریاست کے دروازے کھلے ہیں۔ ترقی میں عدم مساوات پورے ملک کا مسئلہ ہے، اسے تشدد کا جواز نہیں بنانا چاہیے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے صوبے کو امن اور ترقی کی ضرورت ہے۔ فورسز کے خلاف بات کرنا اور ہر وقت احتجاج کرنا مناسب نہیں ہے۔ انہیں اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے۔ آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کی تائید کرتے ہوئے انہوں نے فورسز کے خلاف پراپیگنڈے کی مذمت کی۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں صرف انٹیلی جنس آپریشنز ہو رہے ہیں۔ بڑے پیمانے پر آپریشن نہیں ہو رہا۔ دہشتگردوں کو معافی دے کر جیلوں سے چھوڑا گیا، جس سے وہ دوبارہ ریاست پر حملہ آور ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ فورسز کے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔