Nawaiwaqt:
2026-06-02@20:49:51 GMT
لودھراں: 7 سالہ اکلوتا بیٹا مین ہول میں گر کر جاں بحق، وزیراعلیٰ کا نوٹس، ڈی سی کو ہٹا دیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
لودھراں (نوائے وقت رپورٹ) دھنوٹ میں 7 سال کا بچہ مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوگیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق بچہ ریحان والد کے ساتھ ناشتہ لینے آیا تھا اور والد کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے مین ہول میں گر گیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے دوگھنٹے بعد ریحان کی نعش نکالی۔ پولیس نے زیر تعمیر سڑک کے ٹھیکیدار اور سب انجینئر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ مریم نواز نے سوگوار خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کاحکم دے دیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی معصوم جان کو سرکاری افسر کی غفلت کی بھینٹ چڑھنے نہیں دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔