خواجہ آصف نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو دینے پر بھی پی ٹی آئی رہنماؤں کی  مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات اس مضبوط دھکے کی ضمانت دیتے ہیں جس کا انہیں اب سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ان کی اپنی جماعت نے بھی ماضی میں فوج پر کھل کر تنقید کی لیکن کبھی حد سے تجاوز نہیں کیا۔ تفصیلات کے مطابق ان کی جماعت نے پی ٹی آئی کے برعکس کبھی بھی فوج پر تنقید کرتے وقت ریڈ لائن کراس نہیں کی۔ فوج پر حد سے زیادہ تنقیدیں ریاستی اداروں کو فعال طور پر کمزور کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما نہ تو دہشتگردی کیخلاف جاری آپریشن کی حمایت کرتے ہیں اور نہ ہی سیکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں میں شرکت کرتے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کے ارکان دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ سکتے تو یہ آپ کو کیا بتاتا ہے؟.



خواجہ آصف نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو دینے پر بھی پی ٹی آئی رہنماؤں کی  مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات اس مضبوط دھکے کی ضمانت دیتے ہیں جس کا انہیں اب سامنا ہے۔ خواجہ آصف نے مزید الزام لگایا کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا مہم چلاتی ہے، کیا پی ٹی آئی نے کبھی اپنی صفوں سے آن لائن بدسلوکی کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ انہوں نے عمران خان پر اقتدار کے لیے سب یا کچھ نہ ہونے کا طریقہ اپنانے کا الزام بھی لگایا۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کہا کہ فوج پر

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم