2050 تک عالمی فضائی سفر 12.4 ارب مسافروں کی سطح کو چھو سکتا ہے، انٹرنیشنل سول ایوی ایشن
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ سن 2050 تک عالمی فضائی سفر 12.4 ارب مسافروں کی سطح کو چھو سکتا ہے۔
یہ انکشاف عالمی شہری ہوا بازی کے دن کے موقع پر آئندہ پچیس برسوں کے لیے ادارے کی اسٹریٹجک پلان کے اجرا کے دوران کیا گیا۔
آئی سی اے او نے خبردار کیا ہے کہ خودکار طیاروں کی نئی اقسام جلد فضائی سروس میں شامل ہونے والی ہیں، جنہیں پہلے سے پیچیدہ فضائی نظام میں محفوظ طریقے سے ضم کرنے کے لیے نئے انتظامی اور حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔
ادارے کے مطابق بڑھتے ہوئے فضائی ٹریفک کے ساتھ سکیورٹی، سیفٹی اور سائبر سکیورٹی سے متعلق نئے چیلنجز جنم لے رہے ہیں جن سے نمٹنا ناگزیر ہوگا۔
اقوام متحدہ کے اس خصوصی ادارے نے عالمی سطح پر فضائی آلودگی کم کرنے کے عزم کو بھی دہرایا۔ اسٹریٹجک پلان 2026–2050 بین الاقوامی ہوابازی کے شعبے میں 2050 تک کاربن کے خالص اخراج کو صفر کرنے کے عالمی ہدف کی تکمیل پر بھی فوکس رکھتا ہے۔
آئی سی اے او کے نئے منصوبے میں مختلف "ہائی پرائیرٹی اینیبِلرز" کی نشاندہی کی گئی ہے، جو آئندہ عشروں میں فضائی صنعت کو درپیش پیچیدہ مسائل حل کرنے کے لیے بنیادی کردار ادا کریں گے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ان ترجیحی عوامل کے ذریعے عالمی فضائی نظام کو مزید مضبوط، پائیدار اور جامع بنایا جائے گا، جبکہ ان پر پیش رفت کا مسلسل جائزہ بھی لیا جاتا رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرنے کے
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔