جعلی دستاویزات پر سفر کرنے والے مسافروں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
جعلی دستاویزات پر سفر کرنے والے مسافروں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کردیا گیا ہے۔
بدھ کے روز ایک اجلاس میں غیر ملکی سفر کے لیے جعلی دستاویزات استعمال کرنے والے مسافروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں شدت لانے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ساکھ مقدم، جعلی دستاویزات والوں کو سفر کی اجازت نہیں، وزیر داخلہ محسن نقوی
حال ہی میں مختلف ہوائی اڈوں پر ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوئے جن میں مسافروں کو پروازوں سے اتار دیا گیا، باوجود اس کے کہ ان کے پاس درست سفر دستاویزات موجود تھیں۔ یہ اقدامات گزشتہ سال یونان کے بحری حادثے کے بعد غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کے بعد سامنے آئے، جس میں کئی پاکستانی جان کی بازی ہار گئے تھے۔
وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ ناقص یا جعلی دستاویزات پر سفر کرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی صورت میں روکے جائیں گے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چودھری سلیک حسین کی سربراہی میں ہونے والی خصوصی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پروٹیکٹر اجرا کے نظام کو بے عیب بنایا جائے گا اور مسافروں کی سہولت کے لیے امیگریشن سسٹم میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔ وفاقی وزرا نے حتمی سفارشات سات دن کے اندر طلب کیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر اٹلی جانے والا مسافر گرفتار کرلیا
جعلی ویزا اور ایجنٹ مافیا کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کی ہدایت دی گئی۔
محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ جنوری سے اسلام آباد میں اے آئی پر مبنی پائلٹ ایپلیکیشن شروع کی جائے گی، جس سے غیر قانونی امیگریشن پر قابو پایا جا سکے گا اور یہ قبل از وقت معلوم ہو سکے گا کہ کون سفر کرنے کا اہل ہے اور کون نہیں۔
’امیگریشن اصلاحات عوام کی سہولت اور عالمی معیار میں بہتری کے لیے ہیں‘وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک بدر کیے گئے افراد کو پاسپورٹ منسوخی کے بعد دوبارہ ویزا نہیں دیا جائے گا اور جعلی ویزا و ایجنٹ مافیا کے لیے زیرو ٹالرنس ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی سفری دستاویزات کے استعمال پر افغان مسافر سمیت 2 ملزمان گرفتار
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ گرین پاسپورٹ کی رینکنگ بہتر بنائی جاسکے، کیونکہ غیر قانونی طریقے سے جانے والے افراد ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں، امیگریشن اصلاحات عوام کی سہولت اور عالمی معیار میں بہتری کے لیے ہیں۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ نیشنل پولیس بیورو بین الاقوامی ڈرائیونگ لائسنس کا معیار یکساں کرے گا۔
’لیبر ویزا پر سفر کرنے والے افراد کے پاس درست دستاویزات ہونا ضروری‘چودھری سلیک حسین نے کہا کہ مکمل شفاف پروٹیکٹر سسٹم وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ لیبر ویزا پر سفر کرنے والے افراد کے پاس درست دستاویزات ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اوورسیز پاکستانیز وزارت داخلہ کے پروٹیکٹر اور امیگریشن نظام کی بہتری میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی سفری دستاویزات پر 2 مسافر 4 ایجنٹوں سمیت گرفتار
میٹنگ کے شرکا نے غیر قانونی تارکین وطن اور ناقص دستاویزات رکھنے والے افراد کے خلاف اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔ ای-ڈرائیونگ لائسنس، پروٹیکٹر اسٹیمپس اور امیگریشن معاملات پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news جعلی ویزا کریک ڈاؤن محسن نقوی وزیر داخلہ وفاقی حکومت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جعلی ویزا کریک ڈاؤن محسن نقوی وزیر داخلہ وفاقی حکومت جعلی دستاویزات پر پر سفر کرنے والے یہ بھی پڑھیں وزیر داخلہ والے افراد محسن نقوی افراد کے کے خلاف کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔