data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251208-08-24
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) عوام پاکستان کے سربراہ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے ادارے ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں اور نفرت سے کام لیا جا رہا ہے۔ پشاور پریس کلب میں پارٹی کی رکنیت سازی مہم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ 26 ویں اور27ویں ترامیم آئین پاکستان پر سیاہ دھبہ ہیں کیونکہ آئین میں ترامیم کبھی بھی ذاتی مفاد اور فائدے کے لیے نہیں کی جاتیں بلکہ ملک وقوم کے مفاد میں ہوتی ہیں۔ شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ ہمارا سیاست کا مقصد ملکی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود ہے،کرسی نہیں، ملک کو قانون وآئین کے مطابق چلانا ہوگا ورنہ مشکلات ختم نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ قانون سے انحراف کی وجہ سے ملک مسائل میں گھرا ہوا ہے، ملک کے حکمران نوجوانوں کاخیال نہیں کر رہے ہیں جو افسوس ناک ہے، جہاں سیاسی استحکام نہیں ہوگا وہاں معیشت بہتر نہیں ہوگی۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ ادارے ایک دوسرے کے خلاف کھڑے اور نفرت سے کام لیا جارہا ہے، ہم کسی کوگالی نہیں دیتے بلکہ ملک کو ترقی دینے اور جوڑنے کی بات کرتے ہیں، سب کو مل کر مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا، اگر کردار ادا نہ کیا گیا تو کل صرف پچھتاوا ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کسی کو ذاتی طور پر فائدہ نہیں دیتا، ہم اسٹیبلشمنٹ کا سہارا نہیں لیں گے بلکہ عوامی سپورٹ سے اوپر آئیں گے، ملک میں جو کچھ ایک دوسرے کو کہا جارہا ہے اس کا ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا،کسی کو گالیاں دے کر کیسے مسائل کیے جاسکتے ہیں۔ شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ آج صرف اور صرف ملک کی بات کرنی چاہیے، جب بھی عوامی مینڈیٹ کی نفی ہو تو مسائل ہوں گے، اگر گورنر راج کی خیبرپختونخوا میں گنجائش ہے تو ہر صوبے میں ہے،کرسی کی چاہت چھوڑی جائے توصوبائی اور مرکزی حکومتوں کومسائل کا حل مل جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مسلم لیگ (ن) میں آواز اٹھائی لیکن جب انہوں نے ووٹ کو عزت دو کا راستہ چھوڑ دیا تو ہم نے اپنا راستہ الگ کیا۔ انہوں نے کہا کہ واٹس ایپ والی جماعتیں نہیں چل سکتیں، ہمیں کرسی عزیز ہوتی تو ہم اپنا راستہ الگ نہ کرتے، آئین میں ترمیم عوامی رائے اور مفاد میں ہونی چاہیے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمیں اپنی سرحد کا دفاع کرنا ہے، افغان حکومت وہاں سے جارحیت روکے، کوئی چوائس نہیں کہ ہم پر حملہ ہو اور ہم چپ بیٹھے رہیں اور جواب نہ دیں۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: خاقان عباسی نے کہا شاہد خاقان ایک دوسرے نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی