اپنے والد کا سب سے بڑا مداح ہوں، ابھیشیک بچن
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
معروف بھارتی اداکار ابھیشیک بچن نے حال ہی میں اپنے والد اور لیجنڈ اداکار امیتابھ بچن کی وراثت اور فلمی ورثے کے حوالے سے کھل کر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے والد کی کسی بھی کلاسک فلم کو دوبارہ نہیں کریں گے۔
آئی ایف پی کری ایٹو فیسٹیول میں گفتگو کرتے ہوئے 49 سالہ اداکار نے انکشاف کیا کہ وہ بچپن سے ہی امیتابھ بچن کے بڑے مداح رہے ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ والد کی فلمیں بار بار دیکھتے ہوئے گزارا۔
انہوں نے بتایا کہ والد کے کام کے لیے ان کی عزت و احترام صرف بیٹے ہونے تک محدود نہیں، بلکہ وہ دل سے ان کے سب سے بڑے مداح ہیں۔ ابھیشیک نے کہا، ’’میں ان کا سب سے بڑا فین ہوں۔‘‘
اس موقع پر انہوں نے وضاحت کی کہ بسا اوقات اداکاروں کو لگتا ہے کہ وہ کسی کردار کو نئے انداز میں نبھا سکتے ہیں یا اس میں بہتری لا سکتے ہیں، مگر انہیں کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ وہ امیتابھ بچن کی کسی بھی کردار نگاری کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’کوئی بھی ان سے بہتر نہیں کر سکتا، اسی لیے ان کی فلموں کو دوبارہ کرنا میرے لیے بے معنی ہے۔‘‘
گفتگو کے دوران ابھیشیک نے اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ دوستوں کے ساتھ والد کی فلمیں دیکھتے اور پھر ان کے مشہور مناظر کی اداکاری کرتے تھے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’ہم سب بچپن میں بچن بننا چاہتے تھے۔‘‘ ان کے مطابق ان کی نسل کے لیے شعلے کے ہیرو امیتابھ بچن ہی اصل فلمی آئیکن تھے۔
واضح رہے کہ ابھیشیک بچن کو رواں سال ریلیز ہونے والی فلم *ہاؤس فل 5* میں دیکھا گیا تھا۔ ٹرن منسکھانی کی ہدایتکاری میں بننے والی اس فلم میں اکشے کمار، سونم باجوان اور جیکولین فرنینڈس نے بھی اداکاری کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امیتابھ بچن انہوں نے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔